پاکستان میں مالی سال 26 ۔ 2025 کے دوران منشیات کے خلاف آگاہی کی 4,752 سرگرمیاں انجام دی گئیں، رپورٹ

پاکستان نے مالی سال 26 ۔ 2025 کے جولائی تا مارچ کے دوران منشیات کے خلاف آگاہی اور طلب میں کمی کے لئے 4,752 سرگرمیاں انجام دیں جبکہ بحالی کی سہولیات میں توسیع اور منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف قانونی کارروائیوں کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا۔

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):پاکستان نے مالی سال 26 ۔ 2025 کے جولائی تا مارچ کے دوران منشیات کے خلاف آگاہی اور طلب میں کمی کے لئے 4,752 سرگرمیاں انجام دیں جبکہ بحالی کی سہولیات میں توسیع اور منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف قانونی کارروائیوں کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق انسدادِ منشیات کی جامع حکمت عملی تین بنیادی ستونوں پر مبنی ہے جن میں منشیات کی رسد میں کمی، طلب میں کمی اور بین الاقوامی تعاون شامل ہیں، جیسا کہ انسدادِ منشیات پالیسی 2019 میں بیان کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے 9ماہ کے دوران انسدادِ منشیات کے حکام نے منشیات کی طلب میں کمی کے لئے 4,752 سرگرمیاں منعقد کیں تاکہ عوام میں منشیات کے نقصانات سے متعلق آگاہی پیدا کی جا سکے اور ملک بھر میں احتیاطی اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نشے کے عادی افراد کی بحالی اور علاج کی سہولیات میں بھی توسیع کی گئی ہے تاکہ صحت کی دیکھ بھال اور بحالی کے پروگراموں کے ذریعے نشے کے مسئلے سے نمٹا جا سکے۔جولائی تا مارچ مالی سال 26 ۔ 2025 کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں قائم ماڈل ایڈکشن ٹریٹمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز (MATRCs) میں مجموعی طور پر 2,024 مریضوں کا علاج کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری میں قائم MATRC میں سب سے زیادہ 510 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ دیگر مراکز میں ملیر میں 374، منگھوپیر میں 342، حیدرآباد میں 278، کوئٹہ میں 228، اسلام آباد میں 167 اور سکھر میں 125 مریضوں کا علاج کیا گیا۔

رپورٹ میں حکومت کی جانب سے بحالی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہےجن کے تحت اسلام آباد میں ایک نئے ماڈل ایڈکشن ٹریٹمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ 456.38 ملین روپے لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ مرکز 99 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور اس کے تقریباً تمام سول تعمیراتی کام مکمل کئے جا چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس نئے مرکز سے علاج کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور منشیات کے عادی افراد کے لئے بحالی کی سہولیات تک رسائی مزید بہتر ہوگی۔بحالی کے اقدامات کے ساتھ ساتھ حکام نے منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف کارروائیاں بھی جاری رکھیں۔ رپورٹ کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 26 ۔ 2025 کے دوران منشیات سے متعلق 1,489 فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز) درج کی گئیں، جبکہ 1,729 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منشیات سے متعلق مقدمات میں سزا کی شرح 78 فیصد رہی، جو قانونی نفاذ کو مضبوط بنانے اور استغاثہ کے نظام کو مؤثر بنانے کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی انسدادِ منشیات حکمت عملی میں اب صرف قانونی کارروائی ہی نہیں بلکہ آگاہی، علاج اور بحالی کے پروگراموں کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ حکام کے نزدیک آگاہی مہمات، علاج کی سہولیات اور بحالی کے مراکز منشیات کی طلب میں کمی لانے اور متاثرہ افراد کی طویل مدتی بحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مالی سال 26 ۔ 2025 کے جولائی تا مارچ کے دوران 4,752 آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد، 2,024 مریضوں کا علاج، 1,489 مقدمات کا اندراج اور اسلام آباد میں 456.38 ملین روپے مالیت کے نئے بحالی مرکز کی تکمیل کے قریب پہنچ جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی انسدادِ منشیات حکمت عملی کے تحت احتیاطی اور علاجی دونوں پہلوؤں کو مزید وسعت دے رہا ہے۔

مزید خبریں