پاکستان کو پانی کی فراہمی میں کسی بھی کمی سے زراعت، غذائی تحفظ اور معیشت شدید متاثر ہوگی، ڈاکٹر روکسولانا زیگون

ماسکو میں یو ڈبلیو سی کے سائنٹیفک سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ پاکستان کو پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کمی سے ملک کی زراعت، غذائی تحفظ اور مجموعی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):ماسکو میں یو ڈبلیو سی کے سائنٹیفک سینٹر فار انٹرنیشنل اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا ہے کہ پاکستان کو پانی کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کمی سے ملک کی زراعت، غذائی تحفظ اور مجموعی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ منگل کو یہاں جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیر اہتمام "سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ” کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ پر متعدد بار بھارت کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آبی انتظام سے متعلق خدشات کو سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار کے تحت حل نہ کیا گیا تو بھارت کے بالائی دریائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر مؤثر، نافذ العمل اور قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ معاہدے کی مسلسل یکطرفہ معطلی کے نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لئے سنگین سلامتی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو تاریخ میں سرحد پار آبی وسائل کی تقسیم سے متعلق سب سے کامیاب اور پائیدار معاہدوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشترکہ آبی وسائل کے پُرامن انتظام کے لئے آج بھی عالمی سطح پر ایک مثالی نمونہ ہے۔ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے مستقل انڈس کمیشن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات، تعاون اور تنازعات کے پُرامن حل کے لئے ایک مؤثر ادارہ جاتی نظام قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے آبی شعبے میں تعاون ناگزیر ہے۔