نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے تمام دستیاب قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے گا، پاکستان کو اس کے مقررہ آبی حصے سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی امن و سلامتی پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات، سفارت کاری اور معاہدے …
پاکستان کو آبی حقوق سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی امن پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار کا بین الاقوامی سیمینار ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ذریعہ‘‘ سے خطاب
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے تمام دستیاب قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے گا، پاکستان کو اس کے مقررہ آبی حصے سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی امن و سلامتی پر نہایت سنگین اثرات مرتب ہوں گے، پاکستان تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات، سفارت کاری اور معاہدے میں موجود طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کی جانب سے وزارت اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، معاشی خوشحالی، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام ہزاروں برس سے تہذیبوں کو زندگی فراہم کرتا آیا ہے اور اس کا تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے زور دیا کہ سرحد پار بہنے والے دریائوں کو تصادم کا ذریعہ بنانے کے بجائے تعاون کے ذریعے اقوام کو جوڑنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول بین الاقوامی قانون میں مضبوط بنیاد رکھتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 1960ء میں عالمی بینک کی سرپرستی میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا جس نے پانی کی تقسیم کے لیے ایک پائیدار قانونی فریم ورک قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت کو تین مشرقی دریائوں کے پانی کا غیر محدود استعمال دیا گیا جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریائوں کا حق ملا جن پر بھارت کو صرف معاہدے کے مطابق محدود استعمال کی اجازت ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مشرقی دریائوں کا پانی پاکستان آنا بند ہونے کے بعد بھی پاکستان نے معاہدے کی مستقل حیثیت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے آبپاشی اور آبی انتظامی نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کیں حالانکہ اس کے نتیجے میں اسے نمایاں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہچھ دہائیوں سے زائد عرصے میں جنگوں اور سیاسی کشیدگی کے ادوار میں بھی پاکستان نے معاہدے کی روح اور متن دونوں کے مطابق اس پر عمل کیا کیونکہ اسے یقین تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا نیک نیتی سے احترام کیا جائے گا۔محمداسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی، یکطرفہ اور معاہدے سمیت بین الاقوامی قانون میں کسی بھی بنیاد سے محروم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے اس اعلان کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور موثر، پابند اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر ایسے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا جس میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول بین الاقوامی قانون کے اس بنیادی ضابطے کی عکاسی کرتا ہے کہ معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم ثالثی عدالت کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے بھی اس امر کی توثیق کی ہے کہ یہ معاہدہ دریائے سندھ کے طاس سے متعلق دونوں ممالک کے حقوق و فرائض کے لیے ایک مستقل قانونی نظام قائم کرتا ہے اور ایسے معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر پابند بین الاقوامی معاہدوں کو نظر انداز کیا جانے لگا تو اس سے عالمی قانونی نظام پر اعتماد کمزور ہوگا اور ریاستوں کے درمیان پرامن تعلقات متاثر ہوں گے۔ اپریل 2025ء کے بعد کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محمد سحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے دریائے چناب اور جہلم کے بہائو میں اچانک تبدیلیاں دیکھی ہیں جبکہ پاکستان کے حصے کے پانی کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھنے والے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اس تعاون پر مبنی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس نے گزشتہ چھ دہائیوں سے خطے میں استحکام برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام تنازعات کا حل صرف معاہدے میں طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے نہ کہ یکطرفہ اقدامات کے ذریعے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ذمہ دار ریاستیں بین الاقوامی قانون کا احترام کرتی ہیں اور معاہدوں کی پاسداری کو قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی سمجھتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشترکہ آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش خطرناک نظائر قائم کرے گی، قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کمزور کرے گی اور بین الریاستی تعاون کو نقصان پہنچائے گی۔انہوں نے کہا کہ پانی 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگی کی بنیاد ہے جبکہ پاکستان کی زراعت، توانائی کی پیداوار، غذائی تحفظ اور معاشی ترقی کا انحصار معاہدے کے تحت پاکستان کو ملنے والے مغربی دریائوں کے بلا تعطل بہائو پر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کو خلوص دل سے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جنگ کے بیج بونے اور خطے کے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرے۔
انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات، سفارت کاری اور معاہدے میں موجود طریقہ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کے عزم کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو جائز طور پر مختص پانی سے محروم کرنے کی کسی بھی کوشش کے علاقائی امن و سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ محمد اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ بھارت کی جانب سے معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طور پر قرار دیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے آبی حقوق میں کسی بھی قسم کی تبدیلی، رکاوٹ یا کمی کو اقدامِ جنگ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اس موقف میں سنجیدہ ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہمارے حقوق نہ متاثر ہوں اور نہ ہی ان کا ناجائز استعمال کیا جائے۔
علاقائی امن کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے حالیہ بین الاقوامی کشیدگی کے دوران مذاکرات میں سہولت کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطے اور دنیا میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کا واضح ثبوت ہے۔بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام تصفیہ طلب امور پر جامع مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ دوسری جانب سے بھی اسی جذبے کا مظاہرہ کیا جائے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہیے، انہیں تعاون، مذاکرات اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی بنیاد پر اقوام کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کا ذریعہ رہنا چاہیے تاکہ موجودہ اور آنے والی نسلیں اس سے مستفید ہو سکیں۔









