مالی سال 2025-26 کے اختتام پر معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے 3.7 فیصد کی رفتار سے ترقی کی، ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ، وزارت خزانہ
مالی سال 2025-26 کے اختتام پر معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے 3.7 فیصد کی رفتار سے ترقی کی، ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ، وزارت خزانہ
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے 3.7 فیصد کی رفتار سے ترقی کی جبکہ ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جون 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آئوٹ لک رپورٹ کے مطابق سال کے آغاز میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھائو کے باوجود حکومت نے معاشی استحکام برقرار رکھا جبکہ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی طور پر ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہی اور مقررہ ہدف کے اندر برقرار رہی۔رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور صوبائی سرپلس کی بدولت مالیاتی خسارہ کم ہوا جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس (Primary Surplus) جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک پہنچ گیا۔
وزارت خزانہ نے بتایا کہ بیرونی شعبے کی کارکردگی بھی مستحکم رہی جس میں ترسیلات زر، آئی ٹی برآمدات، مستحکم شرح مبادلہ، زرمبادلہ کے ذخائر اور درآمدی استعداد میں بہتری نے اہم کردار ادا کیا۔ جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران کرنٹ اکائونٹ 255 ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) پروگراموں پر عمل درآمد، نیز فچ اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اسی اعتماد کے نتیجے میں پاکستان نے چار سال بعد کامیاب یورو بانڈ جاری کیا، پانڈا بانڈ متعارف کرایا جبکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی مارکیٹوں میں شامل رہا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں برآمدات پر مبنی ترقی، ٹیکس دہندگان کو ریلیف، سماجی تحفظ کے فروغ اور مالیاتی نظم و ضبط کو ترجیح دی ہے۔ زرعی شعبے نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے باوجود مالی سال 2025-26 میں 2.9 فیصد ترقی کی جبکہ آئندہ مالی سال میں اس شعبے کی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بڑے پیمانے کی صنعت (LSM) نے جولائی تا اپریل کے دوران 6.4 فیصد ترقی ریکارڈ کی جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس شعبے میں 1.5 فیصد کمی ہوئی تھی۔رپورٹ کے مطابق مئی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح 11.7 فیصد رہی جبکہ جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
وفاقی محصولات جولائی تا اپریل کے دوران 5.8 فیصد اضافے کے ساتھ 8,601 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا مئی کے دوران 9.7 فیصد اضافے سے 11,228.8 ارب روپے رہیں۔ اسی عرصے میں مجموعی حکومتی اخراجات میں 9.9 فیصد کمی آئی جس کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں 21.9 فیصد کمی تھی۔ وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کی معیشت آئندہ بھی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعت، زرعی شعبے، مضبوط بیرونی کھاتوں، مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر معاشی اشاریوں کے باعث معاشی استحکام مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن کوششوں کے باعث جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے درآمدی مہنگائی اور تیل کے درآمدی بل میں کمی آئے گی جبکہ جون 2026ء کے دوران مہنگائی 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ مزید برآں ریکارڈ ترسیلات زر، آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ اور محتاط معاشی پالیسیوں سے بیرونی شعبہ مزید مضبوط ہوگا اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آنے کی توقع ہے۔









