قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس ، سینیٹر طلحہ محمود کا موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ سے بڑھتے ہوئے خطرات پر اظہار تشویش
قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس ، سینیٹر طلحہ محمود کا موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ سے بڑھتے ہوئے خطرات پر اظہار تشویش
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کےچیئرمین سینیٹر محمد طلحہ محمود نے موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ سے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مکمل چوکسی اختیار کریں اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔منگل کو سینٹ سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں قومی اہمیت کے متعدد امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں کوئٹہ روٹ پر غیر معمولی فضائی کرایے، کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی صورتحال، پائلٹس کے لائسنسوں کا معاملہ، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی ٹریفک میں اضافے کے اقدامات، موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات اور دفاع سے متعلق دیگر امور شامل تھے۔
اجلاس میں سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان اور سینیٹر عطاء الحق نے شرکت کی جبکہ سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر دنیش کمار اور سینیٹر سید مسرور احسن نے ایجنڈا آئٹمز کے محرکین کے طور پر شرکت کی۔ سابق سینیٹر محمد زاہد خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزارت دفاع، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ، مختلف ایئرلائنز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی۔کمیٹی کو پاکستان محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب (گلاف)، آئندہ مون سون سیزن، سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں اور قبل از وقت وارننگ سسٹم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ سے بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ مکمل چوکسی اختیار کریں اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔
کمیٹی نے راولپنڈی کینٹ کے رہائشی علاقوں میں عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے تجارتی سرگرمیوں کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کا کنٹونمنٹ حکام ازسرنو جائزہ لیں گے اور قانون کے مطابق مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔کوئٹہ روٹ پر غیر معمولی فضائی کرایوں کے معاملے پر کمیٹی نے کرایوں کے تعین کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کیں۔ وفاقی وزیر دفاع نے بتایا کہ فضائی کرایے مارکیٹ کی طلب اور رسد کے مطابق مقرر کیے جاتے ہیں اور وزارت دفاع کرایے مقرر کرنے یا ان کی حد متعین کرنے کی مجاز اتھارٹی نہیں ہے۔تاہم کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئٹہ، گلگت، چترال اور دیگر دور دراز و کم ترقی یافتہ علاقوں کو فضائی رابطوں کے ذریعے مؤثر انداز میں ملک کے دیگر حصوں سے منسلک رکھا جانا چاہیے۔
چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ سماجی و معاشی اہمیت رکھنے والے روٹس پر لازمی پروازوں کی شرط کو لائسنسنگ کے نظام کا حصہ بنایا جائے۔ وفاقی وزیر دفاع نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ ان ایئرلائنز کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں جنہیں کم ترقی یافتہ علاقوں میں لازمی پروازیں نہ چلانے پر جرمانے یا سزائیں دی گئیں۔مختلف ایئرلائنز کے نمائندوں نے بھی ان روٹس کی تجارتی اور آپریشنل اہمیت کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ارکان نے گلگت، چترال اور کوئٹہ کی پروازیں خراب موسم کا جواز پیش کرکے بار بار منسوخ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔چیئرمین کمیٹی نے ایئرلائنز پر زور دیا کہ وہ ان علاقوں کے لیے اپنی پروازوں میں اضافہ کریں جبکہ وزارت دفاع کو ہدایت کی کہ عوامی مفاد میں ان روٹس پر باقاعدہ پروازوں کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے ایئر سیال کی خدمات کو سراہتے ہوئے تمام ایئرلائنز کو مشورہ دیا کہ دور دراز علاقوں سے بہتر فضائی رابطے کے لیے اے ٹی آر طیارے اپنے بیڑے میں شامل کریں۔کمیٹی نے پائلٹس کے لائسنسوں کے معاملے کا بھی جائزہ لیا، جس سےماضی میں پاکستان کی فضائی صنعت کو شدید نقصان پہنچاتھا۔ حکام نے بتایا کہ یہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہے جبکہ باقی ماندہ لائسنسوں کی سخت جانچ پڑتال جاری ہے۔کمیٹی نے سابق وفاقی وزیر ہوا بازی کے غیر ذمہ دارانہ اور متنازع بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان بیانات نے پاکستان کی بین الاقوامی فضائی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا اور قومی خزانے کو اربوں روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ چیئرمین کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی حالیہ نجکاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی، بالخصوص یورپی روٹس کی بحالی اور توسیع سے پاکستان کا فضائی شعبہ مزید مستحکم ہوگا۔ کمیٹی نے وزارت دفاع کو اس معاملے پر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں مجوزہ 20 ارب روپے کے ای گیٹ منصوبے میں سرکاری خریداری کے قواعد (پیپرا رولز) کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ اس منصوبے کے حوالے سے ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا اور یقین دہانی کرائی کہ تمام مراحل میں مکمل شفافیت اور پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام خریداری کا عمل قانون اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق انجام دیا جائے۔کمیٹی نے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی سرگرمیوں میں اضافے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ حکام نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر فضائی ٹریفک بڑھانے اور اس کی آپریشنل استعداد کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔حکام نے مزید بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی اور ایرانی فضائی حدود کی بحالی کے بعد خطے میں فضائی ٹریفک کے معمول پر آنے کے امکانات روشن ہوئے ہیں، جس سے گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بہتر استعمال کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ گوادر ایئرپورٹ پر مزید فضائی ٹریفک لانے اور اسے مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔
کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے بنیادی مسافر سہولیات کی عدم دستیابی اور انفراسٹرکچر کی ابتر حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔حکام نے بتایا کہ ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ زیر غور ہے جبکہ سرمایہ کاری کے حصول اور خدمات کے معیار میں بہتری کے لیے ایئرپورٹ کی نجکاری کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے وزارت ہدایت کی کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں موجود خامیوں، مجوزہ ترقیاتی منصوبوں اور ان پر عمل درآمد کے ٹائم لائن پر مشتمل مفصل رپورٹ کمیٹی میں پیش کی جائے۔ رپورٹ موصول ہونے تک اس معاملے پر مزید غور موخر کر دیا گیا۔









