چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا ہے کہ واپڈا کی تنظیم نو 1997 میں شروع کی گئی تھی جو2007 میں مکمل ہوئی، تنظیم نو کے نتیجے میں تمام ریجنل الیکٹرک سپلائی بورڈز کو ڈسٹری بیوشن کمپنیز میں تبدیل کر کے پاور ڈویژن کے ماتحت کر دیا گیا۔
واپڈا کی تنظیم نو 1997 میں شروع کی گئی تھی جو2007 میں مکمل ہوئی، چیئرمین واپڈا
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے کہا ہے کہ واپڈا کی تنظیم نو 1997 میں شروع کی گئی تھی جو2007 میں مکمل ہوئی، تنظیم نو کے نتیجے میں تمام ریجنل الیکٹرک سپلائی بورڈز کو ڈسٹری بیوشن کمپنیز میں تبدیل کر کے پاور ڈویژن کے ماتحت کر دیا گیا۔ منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارفین کی شکایات اور واپڈا کے حوالے سے جاری وضاحتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ این ٹی ڈی سی جو اب این جی سی کے نام سے جانا جاتا ہے وہ بھی اسی نظام کے تحت رکھا گیا، اسی سال واپڈا کو وزارتِ آبی وسائل کے تحت منتقل کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً 2 دہائیوں سے واپڈا کا بجلی کی ترسیل، وصولی، یا ڈسٹری بیوشن انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال میں کوئی کردار نہیں ہے۔انہون نے کہا کہ 2007 کے بعد سے واپڈا کو صرف آبی وسائل کی اسٹریٹجک مینجمنٹ، ڈیموں کی تعمیر، ہائیڈرو پاور منصوبوں، نہروں اور بڑے آبی منصوبوں کی ذمہ داری دی گئی ہے، واپڈا کے زیرِ انتظام ہائیڈرو پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی این جی سی کو بلک میں فراہم کی جاتی ہے جس کے بعد نیشنل گرڈ اور سپلائی سسٹم میں واپڈا کا کوئی کردار نہیں رہتا۔
چیئرمین واپڈا نے کہا کہ اس کے باوجود تقریباً 2دہائیوں سے واپڈا کو بجلی کے انفراسٹرکچر کی خرابیوں، لوڈشیڈنگ اور بلنگ کے مسائل سے متعلق خطوط، شکایات اور الزامات موصول ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہ یہ وضاحت بجلی کے بلوں، میٹرز، ٹرانسفارمرز، سولر/نیٹ میٹرنگ کے طریقہ کار اور ڈسٹری بیوشن لائنز سے متعلق شکایات کی وجہ سے جاری کر رہاہوں، واپڈا کا ان تمام معاملات میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ جب واپڈا سے رابطہ کرتے ہیں اور پھر جواب کا انتظار کرتے ہیں تو وہ اصل متعلقہ اداروں سے فوری شکایات حل کروانے میں وقت ضائع کرتے ہیں۔








