ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت جی ڈی اے فنانس سیکشن کا اجلاس

ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت جی ڈی اے فنانس سیکشن کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر فنانس ذاکر مجید اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس عبدالشکور نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 2025-26 کی مالی کارکردگی

کوئٹہ۔ 30 جون (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات گوادر معین الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت جی ڈی اے فنانس سیکشن کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، ڈائریکٹر فنانس ذاکر مجید اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس عبدالشکور نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 2025-26 کی مالی کارکردگی، آمدن و اخراجات کی تفصیلی رپورٹ، نظرثانی شدہ تخمینوں اور آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ تخمینوں کا جامع جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کفایت شعاری، شفافیت، سخت مالی نظم و ضبط، مؤثر نگرانی اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے کی پالیسی کے نتیجے میں جی ڈی اے نے مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 13 کروڑ روپے سے زائد کی نمایاں بچت کی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ مذکورہ بچت فیول (POL)، میڈیکل، ٹی اے/ڈی اے، ریفریشمنٹس، ٹرانسپورٹ اور یوٹیلیٹی بلز سمیت مختلف مدات میں اخراجات کے مؤثر انتظام اور کفایت شعاری کی پالیسی کے باعث ممکن ہوئی۔

ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان نے کہا کہ ادارے میں مالی نظم و ضبط، شفافیت اور احتساب کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ادارے کے مالیاتی امور، حسابات اور بجٹ مینجمنٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ دستیاب وسائل کا زیادہ سے زیادہ مؤثر اور دانشمندانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے ادارے کی مالی خود کفالت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ریونیو جنریشن کے تمام ممکنہ ذرائع کا جامع جائزہ لینے، نئی قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے اور جی ڈی اے کی ریکوری و کلیکشن کے نظام کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ڈائریکٹر جنرل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مضبوط مالیاتی نظم و نسق، شفافیت، کفایت شعاری اور بہتر انتظامی حکمت عملی کے ذریعے جی ڈی اے نہ صرف اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول کو یقینی بنائے گا بلکہ گوادر کی پائیدار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں بھی کامیاب ہوگا۔