جنوبی کوریا میں مہنگائی کی شرح 30 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

جنوبی کوریا میں جون 2026 کے دوران صارفین کیلئے مہنگائی کی شرح بڑھ کر گزشتہ 30 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

سیئول۔2جولائی (اے پی پی):جنوبی کوریا میں جون 2026 کے دوران صارفین کیلئے مہنگائی کی شرح بڑھ کر گزشتہ 30 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہے۔شنہوا کے مطابق وزارتِ اعداد و شمار کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) جون میں سالانہ بنیاد پر 3.2 فیصد بڑھا جو دسمبر 2023 کے بعد گزشتہ ڈھائی سال کی تیز ترین شرح ہے۔رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی مجموعی شرح ستمبر 2025 سے مسلسل دسویں ماہ بھی جنوبی کوریا کے مرکزی بینک کے 2 فیصد کے درمیانی مدتی ہدف سے اوپر رہی۔صنعتی مصنوعات جن میں پٹرولیم مصنوعات اور پراسیسڈ غذائی اشیاء شامل ہیں، کی قیمتوں میں جون کے دوران سالانہ بنیاد پر 4.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مئی میں یہ شرح 4.2 فیصد تھی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ 24.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں مجموعی مہنگائی میں 0.93 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ جولائی 2022 کے بعد تقریباً چار برس کی بلند ترین شرح ہے۔اس دوران پٹرول کی قیمت میں 23.1 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 33.7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سیمی کنڈکٹرز کی قیمتیں بڑھنے کے باعث کمپیوٹرز کی قیمتیں بھی 22.2 فیصد بڑھ گئیں۔پراسیسڈ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں جون کے دوران سالانہ بنیاد پر 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جو مئی میں ریکارڈ کیے گئے 0.8 فیصد اضافے سے زیادہ ہے۔زرعی، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری سے متعلق مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 3.2 فیصد اضافہ ہوا، جس سے مجموعی مہنگائی میں 0.24 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔زرعی اجناس کی قیمتوں میں پانچ ماہ بعد پہلی مرتبہ 1.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مویشیوں اور ماہی گیری کی مصنوعات کی قیمتیں بالترتیب 6.2 فیصد اور 3.7 فیصد بڑھ گئیں۔چاول کی قیمت میں 11.7 فیصد اضافہ ہوا، تاہم لہسن، ناشپاتی، کھیرا، گاجر اور بند گوبھی کی قیمتوں میں ڈبل ڈیجٹ کی شرح سے کمی ریکارڈ کی گئی۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فیول سرچارج بڑھنے سے بین الاقوامی فضائی کرایوں میں جون کے دوران 28.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔