سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آئین صدرِ مملکت کو سزا میں کمی یا معافی دینے کا اختیار دیتا ہے اور جب یہ اختیار استعمال ہو چکا ہو تو سزا میں اضافے کے لیے ٹھوس قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے
صدرِ مملکت کے آئینی اختیار کے بعد سزا میں اضافہ نہیں ہو سکتا، سپریم کورٹ نے عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل خارج کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آئین صدرِ مملکت کو سزا میں کمی یا معافی دینے کا اختیار دیتا ہے اور جب یہ اختیار استعمال ہو چکا ہو تو سزا میں اضافے کے لیے ٹھوس قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ عدالت نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل اس بنیاد پر خارج کر دی کہ ملزم سزا مکمل کرنے کے بعد رہا ہو چکا ہے۔سماعت کے دوران ژوب، بلوچستان کے جیل سپرنٹنڈنٹ وڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ملزم نے 14 سال قید کاٹنے کے بعد باقی سزا پر صدرِ مملکت کی جانب سے عام معافی حاصل کی، یہ بتایا جائے کہ عمر قید کے قیدی کے لیے 14 سال کی مدت کس قانون کے تحت مقرر کی گئی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس کے علم کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق عمر قید کے قیدی کے لیے کم از کم 17 سال قید کاٹنے کا اصول موجود ہے، تاہم چونکہ متعلقہ ملزم رہا ہو چکا ہے، اس لیے اس قانونی سوال کا جائزہ کسی دوسرے مناسب مقدمے میں لیا جائے گا۔دورانِ سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قتل ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دیا، اس فیصلے پر عملدرآمد بھی ہو چکا، اب سزا بڑھانے کے لیے کوئی مضبوط قانونی وجہ پیش کی جائے۔عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ صدرِ مملکت کو آئین کے تحت سزا میں کمی یا معافی دینے کا اختیار حاصل ہے اور اس مقدمے میں یہ اختیار استعمال کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر سزا میں اضافہ ممکن بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی ۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق اپیل خارج کر دی۔








