ریلوے حادثات کے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی شروع،قائمہ کمیٹی نے تجاوزات پر رپورٹ طلب کر لی

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد تادیبی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے

اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد تادیبی کارروائی شروع کرنے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ کراچی اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں ریلوے اراضی پر قائم تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔یہ اہم فیصلے جمعرات کو پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے منعقدہ اجلاس میں کیے گئے جس کی صدارت چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے اسمبلی قواعد و ضوابط کے تحت کی۔ اجلاس میں ریلوے کی حفاظت، سابقہ سفارشات پر عمل درآمد، پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی اور محکمے کی بحالی کے سٹریٹجک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری پاکستان ریلوے نے کمیٹی کو حالیہ ریلوے حادثات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سکھر ڈویژن کے لاکھہ روڈ سٹیشن پر شالیمار ایکسپریس کے ٹکرائو اور لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی وجوہات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں غفلت کے مرتکب ذمہ دار افسران اور عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو سخت ہدایت جاری کی کہ وہ ریلوے نیٹ ورک کے مختلف سیکشنز بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں ریلوے کی زمینوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔

اس کے علاوہ وزارت ریلوے کو پابند کیا گیا کہ وہ اگلے اجلاس میں ریلوے کی تنظیم نو، بحالی کے پلان اور کلیدی منصوبوں ’ایم ایل ون‘ اور ’پیپری‘ پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دے۔اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ابرار احمد، وسیم قادر، محمد نعمان، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، سید وسیم حسین، احمد سلیم صدیقی اور محمد الیاس چوہدری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارت ریلوے کے سیکریٹری، سیکریٹری پاکستان ریلوے بورڈ، چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔