لاہور ہائیکورٹ نے واٹس ایپ گروپس سے متعلق ایک اہم قانونی نظیر قائم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف واٹس ایپ گروپ کا رکن یا ایڈمن ہونا بذاتِ خود فوجداری ذمہ داری نہیں بنتا جبکہ غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص خود اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا
لاہور ہائیکورٹ، غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص خود اپنے عمل کا ذمہ دارقرار

مزید خبریں
لاہور۔2جولائی (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے واٹس ایپ گروپس سے متعلق ایک اہم قانونی نظیر قائم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ صرف واٹس ایپ گروپ کا رکن یا ایڈمن ہونا بذاتِ خود فوجداری ذمہ داری نہیں بنتا جبکہ غیر قانونی یا توہین آمیز مواد اپ لوڈ، فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص خود اپنے عمل کا ذمہ دار ہوگا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے واٹس ایپ پر مبینہ توہین آمیز مواد پھیلانے کے الزام میں گرفتار ملزم سید عبدالمنان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا،جسے اہم عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف کسی واٹس ایپ گروپ میں موجودگی یا خاموش رہنا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں،اسی طرح صرف گروپ ایڈمن ہونے کی بنیاد پر بھی کسی شخص پر فوجداری ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ واٹس ایپ پر غیر قانونی مواد اپ لوڈ،فارورڈ یا شیئر کرنے والا شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوگا اور اسی کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔عدالت نے مقدمے میں پیش کی گئی ایف آئی اے کی ٹیکنیکل اینالیسز رپورٹ کو بادی النظر میں قابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی،لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ مقدمے کا ٹرائل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔







