افغان طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور یورپی دورے کے خلاف برازیل میں بڑا احتجاجی مظاہرہ

افغان طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور یورپی دورے کے خلاف برازیل میں بڑا احتجاجی مظاہرہ

سائو پائولو۔2جولائی (اے پی پی):افغان طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور یورپی دورے کے خلاف برازیل میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، افغان طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں اور دورہ برسلز کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی لہر برقرار ہے۔

افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم ‘وائس آف ویمن’ نے برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں طالبان رجیم کی ظالمانہ پالیسیوں اوربرسلز دورے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں افغان مہاجرین سمیت مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر افغان خواتین کی آزادی، تعلیم اور روزگار کا پرزور مطالبہ کیا گیا اور افغان طالبان کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔

پرتگالی زبان کے بینرز اور سائن بورڈز پر ‘طالبان کو تسلیم نہ کریں’ اور ‘افغان خواتین کا ساتھ دیں’ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو یورپی پارلیمنٹ میں مدعو کرنا افغان عوام اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغان طالبان کو دہشت گرد گروپ کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اسے انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا جائے۔

عالمی ماہرین کے مطابق تکنیکی رابطوں کے بہانے طالبان کو عالمی قبولیت فراہم کرنا دنیا بھر میں انتہا پسند نظریات کی حوصلہ افزائی کرے گا، برازیل احتجاج ثابت کرتا ہے کہ عالمی رائے عامہ طالبان رجیم کی کسی بھی قسم کی ‘نارملائزیشن’ کے سخت خلاف ہے۔

مزید خبریں