بڑھتی آبادی بڑا چیلنج ، حکومت کے ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہوگا،سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب

سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے

لاہور۔2جولائی (اے پی پی):سینئر صوبائی وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس پر قابو پانے کے لیے اسے قومی ایجنڈا بنانا ہوگا اور حکومت کے ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔جمعرات کے روزنجی ہوٹل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اعلان کیا ہے، جس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلی بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافے سے متعلق روایتی سوچ سے نکل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی منصوبہ بندی آبادی کے حجم کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہر شہری آبادی کو متوازن رکھنے کے قومی مقصد میں حکومت کا ساتھ نہیں دے گا، اس مسئلے پر موثر انداز میں قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریبا 24 کروڑ جبکہ پنجاب کی آبادی 13 کروڑ ہے۔ وزیر اعلی پنجاب کے منصب سنبھالنے کے بعد آبادی سے متعلق درست ڈیٹا کی تیاری کو ترجیح دی گئی اور جولائی تک یہ ڈیٹا مکمل کر لیا جائے گا، جس سے مستقبل کی منصوبہ بندی میں آسانی ہوگی۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کے لیے مختص وسائل پر دباو بڑھ جاتا ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعلی پنجاب نے 10 اضلاع میں اسکول میل پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے علما کرام، میڈیا اور معاشرے کے دیگر طبقات پر زور دیا کہ وہ آبادی میں اضافے سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کی خواہش ہے کہ تمام طلبہ کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس فراہم کی جائیں، تاہم بڑھتی ہوئی آبادی وسائل کی تقسیم میں ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی عمارت گرنے کے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ انتہائی دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔ ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں، تاہم حادثہ رونما ہو چکا تھا۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اس بات کا ضرور جائزہ لیں کہ ان کے بچے جس تعلیمی ادارے یا ٹیوشن سینٹر میں جا رہے ہیں، وہ محفوظ بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، تاہم اجتماعی احساسِ ذمہ داری بھی ناگزیر ہے۔

مزید خبریں