پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے ’ایک قوم، ایک نظام‘ وژن کے تحت ای پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم یعنی ای پیڈز 2.0 کی لانچنگ کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں
’ایک قوم، ایک نظام‘ وژن کے تحت ملک بھر میں ای پیڈز2.0 کی لانچنگ کی تیاریاں مکمل ،گزشتہ سال کے دوران ای پیڈز کے استعمال سے انتظامی اخراجات میں 20 ارب 20 کروڑ روپے کی بچت ریکارڈ

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے ’ایک قوم، ایک نظام‘ وژن کے تحت ای پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم یعنی ای پیڈز 2.0 کی لانچنگ کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں ، یہ اقدام سرکاری خریداری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، شفافیت اور احتسابی عمل کو مزید مضبوط بنانے اور وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے مطابق نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کے وفاقی حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔ان خیالات کا اظہار منیجنگ ڈائریکٹرپیپرا حسنات احمد قریشی نے جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل لیگل پیپرا محمد اسلم وسیم اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ای پیڈز شیخ افضل رضا بھی موجود تھے۔ منیجنگ ڈائریکٹر پیپرا نے بتایا کہ ای پیڈز کا نیا ورژن سرکاری خریداری اور معاہدہ جاتی نظم و نسق کا ایک جدید اور آسان نظام ہے جسے بین الاقوامی معیار اور مستقبل کے ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق ای پیڈز ٹیم نے خود تیار کیا ہے۔ یہ نظام سپلائر رجسٹریشن، بینیفیشل اونرشپ کی تصدیق، ای انوائسنگ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ای بولی جمع کرانے، نظام کے تحت بولیوں کی جانچ، مختلف اداروں کے باہمی انضمام، نگرانی کے ڈیش بورڈز اور مالی منصوبہ بندی بہتر بنانے کے لیے کمٹمنٹ اکائونٹنگ جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای پیڈز کا نیا ورژن دراصل ہمارے ’ایک قوم، ایک نظام‘ کے وژن کی عملی تعبیر ہے جو ایک ایسا واحد اور مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جس سے کارکردگی، احتساب اور مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ ملے گا جبکہ کاروبار کرنے کی لاگت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔انہوں نے بتایا کہ ای پیڈز کے نئے ورژن کا اجرا ء ای پیڈز کے پہلے سسٹم کی کامیابیوں کا تسلسل ہے جس کے ذریعے مالی سال 26 ۔ 2025 کے دوران14 کھرب روپے سے زائد مالیت کے لین دین مکمل ہوئے، 10 ہزار سے زائد سرکاری ادارے اور 51 ہزار سپلائرز رجسٹر ہوئے، رواں سال ماہ فروری سے وفاقی حکومت میں ای پیڈز کا نیا ورژن نافذ کیا جا چکا ہے جہاں اب تک 18 سو سے زائد سرکاری ادارے اور 19 ہزار سپلائرز رجسٹرد ہوچکے ہیں، نئے سسٹم کے زریعے سات ہزار سے زائد خریداریاں مکمل کی جا چکی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نظام ایف بی آر، نادرا، ایس ای سی پی، پاکستان انجینئرنگ کونسل، صوبائی ریونیو اتھارٹیز اور ڈریپ کے ساتھ مکمل طور پر منسلک ہے جبکہ نگرانی کی سہولت قومی احتساب بیورو، کمپیٹیشن کمیشن اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو بھی فراہم کر دی گئی ہے۔ حسنات قریشی نے اس امر کو اجاگر کیا کہ ملک میں خریداری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں وزیراعظم کی گہری دلچسپی شامل رہی اور مالی سال 25-2024 کے دوران ای پیڈز کے تیز رفتار نفاذ کے باعث خریداری کے انتظامی اخراجات میں 20 ارب 52 کروڑ روپے کی نمایاں بچت ممکن ہوئی۔ اس میں خریداری کرنے والے اداروں کیلئے 17 ارب 18 کروڑ روپے جبکہ سپلائرزکیلئے 3 ارب 33 کروڑ روپے کی بچت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی کارکردگی میں بہتری، کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی اور طریقہ کار کو آسان اور موثر بنانے کے ذریعے حاصل ہوئی۔ایم ڈی پیپرا نے بتایا کہ روایتی کاغذی طریقہ کار کے بجائے ای پیڈز کے استعمال سے خریداریوں کی کانٹڑیکٹ لاگت میں بھی خاطرہ خواہ بچت کا مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف چار خریداریوں میں ایک ارب 86 کروڑ روپے کی بچت کی گئی۔ ان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ایک لاکھ لیپ ٹاپس کی خریداری، گیپکو اور پیسکو کی جانب سے توانائی میٹرز کی خریداری میں مجموعی طور پر 10 کروڑ 56 لاکھ روپے کی بچت، خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے کتابوں کی خریداری میں لاگت کو 13 رب 39 کروڑ روپے سے کم کرکے 12 رب 75 کروڑ روپے تک لانا، اور فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کی جانب سے ٹی ڈی ویکسین کی خریداری شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں اوسطاً 29.8 فیصد بچت حاصل ہوئی جبکہ اس شرح میں 10 سے 15 فیصد تک اضافے کے امکانات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ ساتھ پیپرا نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے نومبر 2024ء میں منظور کردہ اصلاحاتی روڈ میپ کے مطابق مختلف شعبوں میں اصلاحات نافذ کی ہیں۔ یہ روڈ میپ عالمی بینک کے بین الاقوامی ماہرین کی تشخیصی رپورٹ کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔ایم ڈی پیپرا نے بتایا کہ ادارے کی تکنیکی اور قانونی استعداد بڑھانے اور ای پیڈز کے نئے ورژن کی از خود تیاری کیلئے ماہرین کی بھرتی ، وفاقی اداروں میں 200 سےزائد پروکیورمنٹ سیلز کے قیام، ای پیڈز کے لیے خصوصی پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ،جدید تربیتی لیب اور 16 گھنٹے فعال ہیلپ ڈیسک کے قیام جیسے اقدامات کے زریعے ادارہ جاتی اصلاحات کو یقینی بنایا گیا ہے۔ریگولیٹری اصلاحات کےضمن میں پیپرا آرڈیننس2002 میں ترامیم، پبلک پروکیورمنٹ رولز 2025 کی تیاری اور نئے ضوابط مرتب کرنے جیسے اقدامات یقینی بنائے گئے ، نئے قواعد کے تحت الیکٹرانک خریداری اور ای ڈسپوزل کو لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ شکایات کے ازالے کی کمیٹیاں، بلیک لسٹنگ کے موثر نظام، تھرڈ پارٹی نگرانی، فریم ورک معاہدوں اور معاہدہ جاتی نظم و نسق جیسے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ استعداد کار میں اضافہ اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی جزو رہا ہے اور اب تک 14752 افسران اور وینڈرز کو تربیت فراہم کی جا چکی ہے جن میں سال 2023ء میں ای پیڈز کے آغاز کے بعد 7491 افراد شامل ہیں، یہ تربیت پی پی آر اے نے خود بھی فراہم کی جبکہ لمز، آئی بی اے، نسٹ، ایئر یونیورسٹی اور کامسیٹس جیسی جامعات کے اشتراک سے بھی تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر پیپرا نے 2026-31 پر مشتمل پانچ سالہ اصلاحاتی روڈ میپ بھی پیش کیا جس کے تحت ای پیڈز کے نئے ورژن کو ملک بھر میں نافذ کرنے، اوپن کانٹریکٹنگ ڈیٹا سٹینڈرز ، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن اور کثیر الجہتی ترقیاتی بینکوں کے مالی تعاون سے ہونے والی خریداری کے ماڈیولز اور ڈیش بورڈزمتعارف کرانے، سرکاری اداروں کے لیے خصوصی ماڈیول تیار کرنے، معاہدہ جاتی نظم و نسق کے نظام کو مزید مربوط بنانے، نیشنل پروکیورمنٹ سٹرٹیجی اور پائیدار خریداری پالیسی تشکیل دینے، مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیاتی نظام متعارف کرانے، پیپرا قوانین کی عدم تعمیل میں کمی، خریداری کے عمل کے دورانیے میں کمی اور خریداری سے وابستہ افسران و وینڈرز کی پیشہ ورانہ استعداد بہتر بنانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔







