کنٹریکٹ ملازمت کو ترقی کے لیے سرکاری سروس شمار نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کنٹریکٹ بنیادوں پر انجام دی گئی ملازمت کو ترقی (پروموشن) کے لیے مطلوبہ سروس میں شمار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت کنٹریکٹ ملازمین "سول سرونٹ” کی تعریف میں شامل نہیں ہیں

اسلام آباد۔2جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کنٹریکٹ بنیادوں پر انجام دی گئی ملازمت کو ترقی (پروموشن) کے لیے مطلوبہ سروس میں شمار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت کنٹریکٹ ملازمین "سول سرونٹ” کی تعریف میں شامل نہیں ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر ماضی میں کسی ملازم کو غلط طور پر یہ فائدہ دیا گیا ہو تو اس بنیاد پر دوسرے ملازمین بھی اسی غیر قانونی رعایت کے حقدار نہیں بن سکتے۔ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سندھ سروس ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر دو سول اپیلوں پر محفوظ فیصلہ جاری کردیا۔عدالت نے سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ کنٹریکٹ بنیادوں پر انجام دی گئی ملازمت کو پروموشن کے لیے مطلوبہ مدتِ ملازمت میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور متعلقہ قواعد کے تحت کنٹریکٹ ملازم "سول سرونٹ” کی تعریف سے خارج ہے، اس لیے اس کی کنٹریکٹ سروس کو ریگولر سرکاری ملازمت کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ایڈہاک تقرری اور کنٹریکٹ تقرری کی قانونی حیثیت مختلف ہے۔ ایڈہاک تقرری ایک عارضی انتظام ہوتا ہے جو مستقل تقرری تک برقرار رہتا ہے، جبکہ کنٹریکٹ ملازمت مخصوص مدت اور معاہدے کی شرائط کے تحت ہوتی ہے اور اس سے مستقل تقرری یا ریگولرائزیشن کا کوئی حق پیدا نہیں ہوتا، جب تک قانون یا حکومتی پالیسی اس کی اجازت نہ دے۔عدالت نے کہا کہ سینارٹی اور پروموشن کا تعین صرف ریگولر تقرری کی تاریخ سے کیا جاتا ہے اور کنٹریکٹ مدت کو اس مقصد کے لیے شامل نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی دوسرے ملازم کو ماضی میں غلطی سے کنٹریکٹ سروس کا فائدہ دے دیا گیا ہو تو یہ دوسرے ملازمین کے لیے مساوی فائدے کا قانونی جواز نہیں بن سکتا۔ ایک غیر قانونی یا غلط اقدام کو بنیاد بنا کر اسی غلطی کو بار بار دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ واپڈا یا کسی دوسرے وفاقی ادارے میں انجام دی گئی سابقہ ملازمت اگرچہ بعض معاملات، جیسے تنخواہ کے تحفظ یا پنشن، میں قابلِ شمار ہو سکتی ہے، تاہم سندھ حکومت میں پروموشن کے لیے مطلوبہ سروس میں اسے شامل نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے دونوں سول اپیلیں نمٹاتے ہوئے سندھ سروس ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔