وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا وفاقی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے بنیادی صحت کے مراکز کو مضبوط بنانا اولین ترجیح ہے
حکومت بنیادی صحت کی سہولیات میں موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے ،وفاقی وزیر صحت

مزید خبریں
اسلام آباد۔3جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا وفاقی حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے بنیادی صحت کے مراکز کو مضبوط بنانا اولین ترجیح ہےکیونکہ موجودہ نظام میں اصل کمی اسی سطح پر پائی جاتی ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ ملک میں صحت کا نظام اس انداز میں کام نہیں کر رہا جیسا اسے کرنا چاہیے تھا۔ خاص طور پر بنیادی صحت کی سہولیات میں موجود خلا کے باعث عوام براہِ راست بڑے اور تیسرے درجے کے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جس سے یہ ادارے غیر ضروری بوجھ کا شکار ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں آنے والے تقریباً 70 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کا علاج بنیادی یا ثانوی سطح پر ممکن تھا، مگر گھروں سے ہسپتال تک کے سفر میں مناسب سہولت نہ ہونے کے باعث وہ بڑے ہسپتالوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے ذمہ دار عوام نہیں بلکہ نظام میں موجود وہ خلا ہے جسے حکومت پُر کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نمائشی منصوبوں کے بجائے ٹھوس اور دیرپا اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ وژن یہ ہے کہ مستقبل میں ریفرل سسٹم کو مؤثر بنایا جائے تاکہ صرف وہی مریض تیسرے درجے کے ہسپتالوں میں جائیں جنہیں باقاعدہ ریفر کیا گیا ہو، جبکہ 90 فیصد مریضوں کا علاج ان کے گھروں کے قریب بنیادی صحت مراکز میں ممکن بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے اس خلا کو کم کیا جا سکتا ہے۔ کورونا وبا کے دوران ٹیلی میڈیسن کی افادیت دنیا بھر میں ثابت ہوئی۔ اسی تناظر میں وفاقی حکومت نے 10 بنیادی صحت مراکز میں ٹیلی میڈیسن کا پائلٹ منصوبہ شروع کیا ہے، جن میں 6 اسلام آباد اور 4 کراچی میں قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان مراکز میں مقامی عملے کو تربیت دے کر انہیں آن لائن ماہر ڈاکٹروں سے منسلک کیا گیا ہے، تاکہ مریضوں کو ماہر طبی رائے فراہم کی جا سکے۔ اس نظام کے تحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹرز بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک موقع پر دور دراز علاقے کی مریضہ کا معائنہ قطر (دوحہ) میں موجود خاتون ڈاکٹر نے آن لائن کیا، جو اس نظام کی مؤثریت کا عملی ثبوت ہے۔مزید برآں، ایسے مستند خواتین ڈاکٹرز کو بھی نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے جو ذاتی وجوہات کی بنا پر عملی میدان میں موجود نہیں تھیں، لیکن اب وہ گھروں سے آن لائن خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ مختلف شعبوں کے ماہرین ہفتہ وار بنیادوں پر دستیاب ہوں گے تاکہ بچوں، خواتین اور دیگر امراض کے مریضوں کو بروقت رہنمائی مل سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ ہے اور ہر سال 61 لاکھ 90 ہزار بچے پیدا ہو رہے ہیں، جو تقریباً ایک نئے ملک کی آبادی کے برابر ہے۔ ان بچوں کو حکومت کی جانب سے 13 مختلف ویکسین فراہم کی جاتی ہیں، تاہم اس کے باوجود چار لاکھ سے زائد بچے زیرو ڈوز کیٹیگری میں شامل ہیں، جو تشویشناک امر ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 11 ہزار مائیں دورانِ حمل یا زچگی جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جو ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ ہر 10 ہزار زچگیوں میں تقریباً 400 اموات کا تناسب کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے قابلِ قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی سانحے میں چند درجن قیمتی جانوں کے ضیاع پر پوری قوم سوگوار ہو جاتی ہے، مگر ماں اور بچے کی صحت سے جڑے ان مسلسل نقصانات پر بھی اسی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بنیادی صحت کے نظام کی بہتری، مؤثر ویکسی نیشن، ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے صحت کے شعبے میں دیرپا اصلاحات کے لیے پرعزم ہے، اور دانشوروں، ماہرین اور پالیسی سازوں کی مشاورت سے اس مشن کو آگے بڑھایا جائے گا۔








