سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے وژن کے تحت پارلیمانی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے، شواہد پر مبنی قانون سازی کو فروغ دینے اور بعد از قانون سازی کی جانچ (پوسٹ لیجسلیٹو اسکرُوٹنی) کو پارلیمانی عمل کا مؤثر حصہ بنانے کے لئے قومی اسمبلی کے ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کی صدر رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی قیادت میں اراکینِ قومی اسمبلی کے لیے بعد از قانون سازی …
قومی اسمبلی کے ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کی بعد از قانون سازی کی جانچ کے فروغ کے لیے دو روزہ ورکشاپ

مزید خبریں
اسلام آباد۔4جولائی (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے وژن کے تحت پارلیمانی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے، شواہد پر مبنی قانون سازی کو فروغ دینے اور بعد از قانون سازی کی جانچ (پوسٹ لیجسلیٹو اسکرُوٹنی) کو پارلیمانی عمل کا مؤثر حصہ بنانے کے لئے قومی اسمبلی کے ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کی صدر رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی قیادت میں اراکینِ قومی اسمبلی کے لیے بعد از قانون سازی کی جانچ پر دو روزہ ورکشاپ کا آغاز ہوگیا۔ ورکشاپ میں اراکینِ قومی اسمبلی راجہ اسامہ سرور، شائستہ خان، بابر نواز خان، اختر بی بی، سید شاہ احد علی شاہ، شمائلہ رانا، مقداد علی خان، صدف احسان، دانیال چوہدری، مخدوم زین حسین قریشی اور نیلم کماری نے شرکت کی۔ اراکین قومی اسمبلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعد از قانون سازی کی جانچ کا مؤثر نظام نہ صرف قانون سازی کے معیار کو بہتر بناتا ہے بلکہ پارلیمنٹ کے نگرانی کے کردار کو بھی مزید مضبوط اور مؤثر بناتا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق ورکشاپ کا مقصد اراکینِ قومی اسمبلی کو بعد از قانون سازی کی جانچ سے متعلق جدید علمی و تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قوانین کے نفاذ، ان کی افادیت اور مطلوبہ نتائج کے حصول کا مؤثر جائزہ لے سکیں۔ اس عمل کے ذریعے قوانین پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد، انتظامیہ کے احتساب اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر موجودہ قوانین میں شواہد کی بنیاد پر بہتری کی راہ ہموار کی جا سکے گی۔ورکشاپ ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کی ان مسلسل کاوشوں کا حصہ ہے جن کا مقصد پارلیمانی اداروں کو مزید مضبوط بنانا اور اراکینِ قومی اسمبلی کی قانون سازی اور نگرانی سے متعلق استعدادِ کار میں اضافہ کرنا ہے۔ صدر ینگ پارلیمنٹیرینز فورم رکن قومی اسمبلی سیدہ نوشین افتخار کی قیادت میں فورم نوجوان پارلیمنٹیرینز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافے، علمی تبادلے اور خصوصی پروگراموں کے ذریعے مؤثر پارلیمانی نگرانی، معیاری قانون سازی اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیدہ نوشین افتخار نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد، طریقۂ کار اور متوقع نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ بعد از قانون سازی کی جانچ ایک مؤثر پارلیمانی روایت ہے جو قوانین کے نفاذ اور ان کے اثرات کا جامع جائزہ لینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں قائم صوبائی ینگ پارلیمنٹیرینز فورمز کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے فورم کی جاری کاوشوں کا بھی ذکر کیا۔ افتتاحی اجلاس سے شعور فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن اینڈ اویئرنیس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راجہ شعیب اکبر نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے ورکشاپ میں بھرپور شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔تکنیکی سیشنز کی نظامت کرتے ہوئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے اسپیشل سیکرٹری (خصوصی اقدامات) سید شمعون ہاشمی نے شرکاء کو پارلیمانی نگرانی کی ذمہ داریوں، بعد از قانون سازی کی جانچ کے بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار، قوانین کے موثر ہونے کے جانچنے کے مختلف پیمانوں اور قانون کے نفاذ کا عملی جائزہ لینے کے مؤثر طریقوں سے آگاہ کیا۔ورکشاپ کے دوران "وفاقی بجٹ اور نوجوانوں کو درپیش چیلنجز” کے عنوان سے ایک خصوصی نشست بھی منعقد ہوئی جس کی نظامت سنٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشی ایٹوز (سی پی ڈی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے کی۔ نشست میں وفاقی بجٹ 2026-27 میں نوجوانوں کی فلاح بہبود کے لیے مختص بجٹ کا جائزہ لیا گیا اور پارلیمنٹ کی مؤثر بجٹ نگرانی اور قانون سازی کے ذریعے نوجوانوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں پارلیمنٹ کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ورکشاپ کے پہلے روز کے اختتام پر صدر ینگ پارلیمنٹیرینز فورم سیدہ نوشین افتخار نے مختلف سیشنز کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بعد از قانون سازی کی جانچ کو پارلیمانی نگرانی کے نظام کا مستقل اور مؤثر حصہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ ورکشاپ ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کے ممبران کی استعدادِ کار میں اضافے، انہیں قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت اور عوامی اعتماد کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعد از قانون سازی کی جانچ کو ادارہ جاتی شکل دینے سے پارلیمان قانون سازی سمیت قوانین کے نفاذ، آئینی حقوق کے تحفظ، بہتر حکمرانی اور جمہوری احتساب کو یقینی بنانے میں پہلے سے زیادہ موثر کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ورکشاپ کی پیش کردہ سفارشات پارلیمانی کمیٹیوں کی استعدادِ کار بڑھانے، قانون سازی کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنانے میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔








