حکومت کی رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے حالیہ ٹیکس مراعات سرمایہ کاری کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اہم ہیں۔ میاں محمد نعمان

حکومت کی رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے حالیہ ٹیکس مراعات سرمایہ کاری کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اہم ہیں۔ میاں محمد نعمان

لاہور۔4جولائی (اے پی پی):وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ حافظ میاں محمد نعمان نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے دی جانے والی حالیہ ٹیکس مراعات سرمایہ کاری کی بحالی، کاروباری اعتماد میں اضافے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم اقدام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب شہروں کی بے ہنگم توسیع کے بجائے ورٹیکل تعمیرات کی طرف جانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ کا شعبہ تقریبا 70 صنعتوں سے منسلک ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سستی رہائش، بینکوں کی جانب سے طویل المدتی ہائوسنگ فنانس اور بہتر شہری منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔وہ ہفتہ کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ’’حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو دی گئی مراعات اور پاکستان میں اس کا مستقبل‘‘کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔سیمینار کی صدارت لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے کی۔ سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ، رکن پنجاب اسمبلی ملک شہباز علی، سابق صدور لاہور چیمبر میاں انجم نثار اور محمد علی میاں، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین احد امین ملک، حافظ سجاد، عمر سرفراز، رانا شعبان اختر، رانا نثار اور ندیم انصاری، وائس چیئرمین پیاف نصراللہ مغل، کنوینر سٹینڈنگ کمیٹی میجر (ر) محمد رفیق حسرت، اکبر شیخ، خرم آصف، عاطف عباس، صفدر حسین، طاہر مسعود، شاکر علی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے سیمینار میں شرکت کی۔

شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس شعبے کی ترقی سے سرمایہ کاری بڑھتی ہے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور درجنوں متعلقہ صنعتیں فعال ہوتی ہیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی اور سیکشن ای۔7 کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ کاروباری برادری کا مطالبہ ہے کہ ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیوایشن میں جو کمی بعض علاقوں میں کی گئی ہے، اسے تمام ہائوسنگ سوسائٹیز اور دیگر علاقوں تک بھی توسیع دی جائے تاکہ پورے ملک میں یکساں پالیسی نافذ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد سرمایہ کاروں، بلڈرز، ڈویلپرز اور دیگر متعلقہ افراد کو حکومتی پالیسیوں، ان کے اثرات اور مستقبل کے مواقع سے آگاہ کرنا ہے۔اپنے خطاب میں میاں محمد نعمان نے کہا کہ انہوں نے تقریبا ایک سال قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی بحالی اور تعمیراتی شعبے کے لیے خصوصی پیکیج دینے کی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کی بے قابو توسیع کے باعث زرعی اور گرین ایریاز تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، اس لیے مستقبل میں بہتر شہری منصوبہ بندی اور عمودی تعمیرات پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی حدود بہت زیادہ پھیل چکی ہیں اور نئی ہائوسنگ سکیمیں اب شیخوپورہ، قصور اور دیگر ملحقہ اضلاع تک پہنچ گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں تقریبا ڈیڑھ سے دو لاکھ خالی پلاٹ موجود ہیں، اس لیے نئی زمینیں آباد کرنے کے بجائے موجودہ شہری علاقوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔میاں محمد نعمان نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر شدید مشکلات کا شکار رہا جس کے باعث سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے آباد اور دیگر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ایسے اصلاحاتی اقدامات کئے ہیں جن سے اس شعبے کو سہولت ملے گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔انہوں نے سیکشن ای۔7 کے خاتمے کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر آمدن پیدا کرنے والی جائیداد پر ٹیکس عائد کرنے سے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا ہوئی تھی، جسے دور کرنے کے لیے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کے لیے اپنا گھر بنانا یا خریدنا آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ہائوسنگ فنانس مہنگا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بینکوں کو طویل المدتی اور آسان شرائط پر ہاوسنگ فنانس فراہم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کم آمدنی والے افراد بھی بینکوں سے 15 سے 20 سال کے قرضوں کے ذریعے گھر خرید لیتے ہیں اور پاکستان کو بھی اسی ماڈل کو اپنانا چاہیے۔میجر (ر) محمد رفیق حسرت اور ملک شہباز علی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے مستقل پالیسی، مزید ٹیکس اصلاحات اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ شعبہ ملکی معیشت میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔

مزید خبریں