ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کے زیر اہتمام قانون سازی کے بعد جائزہ لینے سے متعلق دو روزہ ورکشاپ کا آغاز

ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کے زیر اہتمام قانون سازی کے بعد جائزہ لینے سے متعلق دو روزہ ورکشاپ کا آغاز

اسلام آباد۔4جولائی (اے پی پی):قومی اسمبلی کے ینگ پارلیمنٹیرینز فورم (وائی پی ایف)کے زیر اہتمام ہفتہ کو اسلام آباد میں پوسٹ لیجسلیٹو اسکرونٹی (پی ایل ایس) کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ کا آغاز ہوگیاجس کا مقصد اراکینِ پارلیمنٹ کو قوانین کے نفاذ اور ان کی مؤثریت کا جائزہ لینے کے لیے عملی مہارت فراہم کرنا، پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنانا اور شواہد پر مبنی قانون سازی کو فروغ دینا ہے۔یہ ورکشاپ ینگ پارلیمنٹیرینز فورم نے شعور فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن اینڈ اویئرنیس (ایس ایف ای اے) کے اشتراک سے منعقد کی جس میں قومی اسمبلی کے اراکین نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد قانون سازوں کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ یہ جانچ سکیں کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ قوانین پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد ہو رہا ہے یا نہیں اور آیا وہ اپنے مقررہ اہداف حاصل کر رہے ہیں۔ورکشاپ کا افتتاح ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کی صدر سیدہ نوشین افتخار نے کیا۔

انہوں نے ورکشاپ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے پارلیمانی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے، قانون سازی کے بعد اس کےجائزے کے عمل کو ادارہ جاتی شکل دینے اور قانون سازوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے فورم کے عزم کا اعادہ کیا۔افتتاحی اجلاس میں قومی اسمبلی کے اراکین راجہ اسامہ سرور، شائستہ خان، بابر نواز خان، اختر بی بی، سید شاہ احد علی شاہ، شمائلہ رانا، مقداد علی خان، صدف احسان، دانیال چوہدری، مخدوم زین حسین قریشی اور نیلم کماری نے شرکت کی۔

اس موقع پر شعور فاؤنڈیشن کے چیئرمین علی حمید بھی موجود تھے۔شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئےشعور فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راجہ شعیب اکبر نے کہا کہ قانون ساز اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے علم کے تبادلے، باہمی تعاون اور مسلسل تربیت ناگزیر ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے سپیشل سیکرٹری (خصوصی اقدامات) سید شمون ہاشمی نے تکنیکی نشستوں کی قیادت کی۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے نگرانی کے کردار، قانون سازی کے بعد جائزہ لینے کے عالمی بہترین طریقہ کار، قانون سازی کی جانچ کے جدید طریقوں اور قوانین کے نفاذ و اثرات کا عملی جائزہ لینے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

ورکشاپ کے دوران شرکا نےوفاقی بجٹ27 ۔ 2026 اورنوجوانوں کو درپیش چیلنجز سے متعلق ایک تعاملی اجلاس میں بھی شرکت کی جسے سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی نے خطاب کیا۔ اجلاس میں ابھرتے ہوئے قومی مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر بجٹ نگرانی اور قانون سازی میں پارلیمنٹ کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

پہلے روز کی کارروائی کے اختتام پر سیدہ نوشین افتخار نے کہا کہ قانون سازی کے بعد اس کے باقاعدہ جائزے کے نظام کو ادارہ جاتی شکل دینے سے پارلیمنٹ صرف قانون بنانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جا سکے گاجس سے بہتر طرزِ حکمرانی اور جمہوری احتساب کو فروغ ملے گا۔انہوں نے ورکشاپ کے کامیاب انعقاد میں قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حکام راجہ محمد علی، سید ارسلان کاظمی اور ارسلان کیانی کی خدمات کو بھی سراہا۔

ورکشاپ کے اختتام پر مرتب کی جانے والی سفارشات سے پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کو مزید مؤثر بنانے، قانون سازی پر نگرانی کے نظام کومضبوط کرنے اور پاکستان میں زیادہ شفاف، جوابدہ اور عوام دوست قانون سازی کے عمل کو فروغ دینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔