ساتویں ڈیجیٹل زراعت شماری 2024 کی صوبائی رپورٹ برائے پنجاب جاری، ربیع میں 26.69 ملین ایکڑ جبکہ خریف میں 22.22 ملین ایکڑ اراضی پر فصلیں کاشت کی گئیں، نتائج

پاکستان بیوروبرائے شماریات(پی بی ایس)کے زیراہتمام ساتویں ڈیجیٹل زراعت شماری 2024 کی رپورٹ برائے صوبہ پنجاب پیرکوجاری کردی گئی، پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات حافظ میاں محمد نعمان نے باضابطہ اجراکیا۔

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):پاکستان بیوروبرائے شماریات(پی بی ایس)کے زیراہتمام ساتویں ڈیجیٹل زراعت شماری 2024 کی رپورٹ برائے صوبہ پنجاب پیرکوجاری کردی گئی، پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات حافظ میاں محمد نعمان نے باضابطہ اجراکیا۔ ڈیجیٹل زراعت شماری 2024 کے مطابق پنجاب میں ربیع میں 26.69 ملین ایکڑ جبکہ خریف میں 22.22 ملین ایکڑ اراضی پر فصلیں کاشت کی گئیں، صوبے میں گندم سب سے بڑی فصل کے طور پر 20.653 ملین ایکڑ رقبے پر کاشت کی گئی ، چاول 6.674 ملین ایکڑجبکہ چارہ 6.660 ملین ایکڑ پر کاشت کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق کپاس 3.833 ملین ایکڑ، مکئی 2.149 ملین ایکڑ اور گنا 1.852 ملین ایکڑ رقبے پر کاشت کیا گیا۔ پنجاب میں زیرِ کاشت اراضی 2010 میں 27.034 ملین ایکڑ تھی جو 2024 میں بڑھ کر 29.645 ملین ایکڑ تک پہنچ گئی ، صوبے کی 96 فیصد زیرِ کاشت اراضی نہری نظام اور ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب کی جاتی ہے۔ساتویں ڈیجیٹل زراعت شماری 2024 کے مطابق پنجاب میں مویشیوں کی تعداد 2006 میں 61 ملین تھی جو 2024 میں بڑھ کر 104 ملین تک پہنچ گئی ہے ،بڑے جانوروں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 62 فیصد حصہ پنجاب کے پاس ہے،صوبے میں مویشیوں کی تعداد میں31.3 ملین بکریاں اور26.97ملین گائے ً شامل ہیں ،صوبے میں بھینسوں کی تعداد29.56 ملین ہے۔ زراعت شماری 2024 کے مطابق پنجاب میں بھیڑوں کی تعداد 13.38 ملین ہے جبکہ 0.25ملین اونٹ بھی صوبے کے پاس موجود ہیں،اسی طرح ملک میں موجود ٹریکٹروں کی مجموعی تعداد کا تقریباً 79 فیصد حصہ پنجاب کے پاس ہے، صوبے میں تقریباً 76 ہزار ٹیوب ویل موجود ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل شمار کے عنوان سے یہ زراعت شماری پاکستان کی شماریاتی تاریخ میں اہم سنگِ میل ہے، زراعت شماری 2024 میں زراعت، لائیو سٹاک اور زرعی مشینری سے متعلق جامع معلومات اکٹھی کی گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ زراعت پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اوریہ اقدام حکومتِ پاکستان کے "اڑان پاکستان ” کے فائیوایزوشن فریم ورک کے تحت ہے جس کا مقصد پاکستان کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے ۔ زراعت شماری کو ستمبر 2024 سے فروری 2025 تک دو مراحل میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیاگیا اوریہ زراعت شماری ملک میں 14 سال کے وقفے سے منعقد کی گئی۔ چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفرنے بتایا کہ ساتویں زراعت شماری 2024 محض ایک شماریاتی کامیابی ہی نہیں بلکہ ایک انقلابی جدت ہے،ٹیکنالوجی، منصوبہ بندی اور استعدادِ کار میں اضافہ آئندہ قومی سرویز و مردم شماریوں کے لیے نیا معیار قائم کر سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ زراعت شماری کے سارے عمل میں شفافیت، درستگی اور کارکردگی کو یقینی بنایا گیا ،زرعی اعدادو شمار زرعی شعبے میں موئثر پالیسی سازی، بہتر منصوبہ بندی اور ترقیاتی حکمتِ عملیوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، حافظ میاں محمد نعمان نے ساتویں زراعت شماری کے کامیاب انعقاد پرپاکستان ادارہ شماریات کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ زراعت شماری میں جدید، شفاف اور درست ڈیٹا اکٹھا کرنے کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں، جدید ڈیٹا اکٹھا کرنے کا نظام موئثر پالیسی سازی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہاکہ زراعت شماری کے نتائج ملک کی خوشحالی اور پائیدار معاشی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے افسران اور اہلکاروں کو محض چھ ماہ کی مدت میں کامیابی سے زراعت شماری مکمل کرنے پر یادگاری شیلڈز پیش کیں۔ پاکستان ادارہ برائے شماریات نے نتائج اپنی ویب سائٹ پربھی جاری کردیے ہیں۔