وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دنیا کو اس وقت جن مشترکہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، وہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ ماورائے سرحد ہیں؛ کوئی بھی ملک تنہا ان خطرات سے نہیں نمٹ سکتا۔
عالمی چیلنجز سے تنہا نمٹنا ممکن نہیں، ماورائے سرحد جرائم کے خاتمے کے لیے فوری روابط اور ٹیکنالوجی کا اشتراک ناگزیر ہے ،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

مزید خبریں
نیویارک۔9جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ دنیا کو اس وقت جن مشترکہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، وہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ ماورائے سرحد ہیں؛ کوئی بھی ملک تنہا ان خطرات سے نہیں نمٹ سکتا۔اقوام متحدہ کی پولیس سربراہان کی سمٹ (یواین سی او پی ایس ) سے تاریخی اور کلیدی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشت گردی، منظم جرائم اور سائبر کرائمز کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون، باہمی اعتماد اور فوری معلومات کا تبادلہ اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے صدر دفتر نیویارک میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی عالمی فورم میں دنیا بھر سے آئے ہوئے وزراء، پولیس چیفس اور معزز شخصیات کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے خطبہ استقبالیہ کے بعد اپنے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ قومی سرحدوں کو نہیں مانتے۔ دہشت گردی، منظم جرائم، سائبر کرائم، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ جیسے ناسور سے دنیا کا ہر ملک متاثر ہو رہا ہے۔ کوئی بھی ملک ان خطرات سے محفوظ نہیں، اس لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے جدید دور کے تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی انتہائی تیز رفتاری سے بدل رہی ہے اور جرائم پیشہ عناصر جرائم کی نئی اور جدید تکنیکیں استعمال کر رہے ہیں۔ ہمیں ان کا مقابلہ کرنے اور ان کی روک تھام کے لیے خود جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے پولیس افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانا ہے۔ فورسز کی تربیت کے نظام کو مضبوط کر کے اس میں جدت کا زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنانا ہوگا۔
محسن نقوی نے سمٹ میں موجود عالمی رہنماؤں کے تجربے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سیشن میں دنیا بھر کے تجربہ کار اور مایہ ناز سیکیورٹی ماہرین اکٹھے ہیں۔ آپ میں سے ہر ایک قیمتی علم اور عملی تجربہ رکھتا ہے، لہٰذا ہمیں ایک دوسرے کے خیالات اور کامیابیوں سے سیکھنا چاہیے اور مل کر کام کرنے کے نئے راستے تلاش کرنے چاہئیں۔وزیر داخلہ نے اس موقع فراہم کرنے پر اقوام متحدہ کے پولیس ایڈوائزر فیصل شاکر کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی بدولت عالمی ہم منصبوں اور دوستوں کو ایک دوسرے سے ملنے اور مکالمہ کرنے کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ہمیں ایک ایسا منفرد پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جو ہمیں اپنے ممالک کو محفوظ بنانے کے مشترکہ مقصد کے تحت یکجا کرتا ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ یہ سمٹ اپنے لوگوں کی حفاظت اور دنیا بھر میں امن و سلامتی کے قیام کو مضبوط بنانے کے حوالے سے انتہائی خاص اور سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔








