"اعلیٰ تعلیم کے معیار، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور تعلیمی شعبے میں جدت لانے کے لیے بورڈ آف فیکلٹیز کا مؤثر کردار انتہائی اہم ہے۔” — پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول
وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی ملتان کی تمام ڈگری پروگرامز میں مصنوعی ذہانت لازمی مضمون قرار دینے کی سفارش

مزید خبریں
ملتان۔ 09 جولائی (اے پی پی):ویمن یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیدہ شاہدہ بتول کی زیر صدارت بورڈ آف فیکلٹیز کے اجلاس منعقد ہوئے، جن میں نصاب کی نظرثانی، نئے تعلیمی پروگرامز، سکیم آف سٹڈیز، معیارِ تعلیم میں بہتری اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے تقا ضوں سے ہم آہنگی کے حوالے سے اہم سفارشات منظور کی گئیں۔
ترجمان کے مطابق وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام تعلیمی فیصلے جدید تقاضوں، ایچ ای سی اور متعلقہ پروفیشنل کونسلز کی پالیسیوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نصاب میں بروقت اصلاحات اور تعلیمی پالیسیوں کی بہتری سے ادارے کا تعلیمی معیار مزید مستحکم ہوگا۔انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ڈگری پروگرامز میں مصنوعی ذہانت (AI) کو لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ طلبہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، تنقیدی سوچ اور عملی مہارتوں سے آراستہ ہو سکیں۔اجلاس میں ایم ایس اردو ویک اینڈ، ایم ایس انگلش لٹریچر، ایم ایس انگلش لنگوسٹکس، بی ایس میڈیکل فزکس، بی ایس نینو ٹیکنالوجی، بی ایس کمپیوٹیشنل فزکس، ایم ایس کیمسٹری ویک اینڈ اور انڈسٹریل کیمسٹری اسپیشلا ئز یشن سمیت متعدد نئے پروگرامز شروع کرنے کی سفارش کی گئی۔ اجلاس میں فارم ڈی پروگرام کے نئے سمسٹر ریگولیشنز اور طلبہ کی عملی تربیت، انٹرن شپ اور صنعتی اداروں سے روابط کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی گئی۔اجلاس کا ایجنڈا رجسٹرار ڈاکٹر سارہ مصدق نے پیش کیا جبکہ ڈائریکٹر اکیڈمکس ڈاکٹر مریم زین، اقرا اسد اور مریم بلوچ بھی موجود تھیں۔








