کے پی اسمبلی کا نیا استحقاقی قانون آئینی جانچ کا متقاضی، پارلیمانی استحقاق کو سیاسی مراعات میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے، حافظ احسان احمد کھوکھر

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور استحقاقات) ایکٹ 2026 پارلیمانی استحقاق، آئینی حدود، مساوات، احتساب اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق اہم آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے اور اس کی بعض شقیں عدالتی جانچ کی متقاضی ہو سکتی ہیں۔

اسلام آباد۔ 11 جولائی (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور استحقاقات) ایکٹ 2026 پارلیمانی استحقاق، آئینی حدود، مساوات، احتساب اور اختیارات کی تقسیم سے متعلق اہم آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے اور اس کی بعض شقیں عدالتی جانچ کی متقاضی ہو سکتی ہیں۔’’اے پی پی ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 66 اور 127 کے تحت اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو ایوان کے اندر اظہارِ رائے، ووٹ اور پارلیمانی کارروائی سے متعلق استثنیٰ حاصل ہے، تاہم ان تحفظات کا مقصد مقننہ کی آزادی کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ عوامی نمائندوں کو قانون سے بالاتر کوئی خصوصی حیثیت دینا۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں ارکان اسمبلی کو بعض قانونی کارروائیوں سے قبل اسپیکر کی منظوری، احتیاطی حراست سے استثنیٰ، سرکاری افسران کی لازمی حاضری، سابق ارکان اور ان کی شریک حیات کو تاحیات سرکاری پاسپورٹ، خصوصی سکیورٹی، اسلحہ لائسنس، ٹول ٹیکس میں چھوٹ اور دیگر مراعات دینے جیسی شقیں شامل ہیں، جن کے آئینی جواز کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو قانون کے سامنے مساوات اور یکساں تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے اگر منتخب نمائندوں کو غیر معمولی قانونی تحفظ یا مراعات دی جائیں تو یہ مساوات کے آئینی اصول سے متصادم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین اختیارات کی تقسیم کے اصول پر قائم ہے، اس لیے انتظامی افسران کو ارکان اسمبلی کے سامنے لازمی پیش ہونے کا پابند بنانا مقننہ اور انتظامیہ کے درمیان آئینی توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمانی نگرانی اپنی جگہ اہم ہے، تاہم روزمرہ انتظامی امور کو انفرادی ارکان اسمبلی کے تابع نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ احتیاطی حراست سے عمومی استثنیٰ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں اور عوامی نظم و نسق کے حوالے سے بھی اہم آئینی سوالات پیدا کرتا ہے، جبکہ سابق ارکان کو تاحیات سرکاری مراعات دینا پارلیمانی استحقاق کے بنیادی مقصد سے مطابقت نہیں رکھتا۔

حافظ احسان احمد کھوکھر کا کہنا تھا کہ دنیا کی جمہوری روایات میں پارلیمانی استحقاق کو ادارے کے تحفظ کے لیے تسلیم کیا جاتا ہے، نہ کہ منتخب نمائندوں کو ذاتی یا مستقل مراعات فراہم کرنے کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ بھی متعدد فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ کوئی بھی عوامی عہدہ آئین سے بالاتر نہیں اور ہر قانون آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی نافذ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ آیا صوبائی اسمبلی عام قانون سازی کے ذریعے آئین میں دی گئی پارلیمانی استثنیٰ کی حدود کو بڑھا سکتی ہے، آیا احتیاطی حراست سے عمومی استثنیٰ آئین کے بنیادی حقوق سے مطابقت رکھتا ہے، اور کیا تاحیات مراعات یا بعض دیگر شقیں آئینی مساوات اور اختیارات کی تقسیم کے اصول سے ہم آہنگ ہیں۔

حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ پارلیمانی استحقاق جمہوری نظام کا اہم جزو ہے، لیکن اسے احتساب کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے بقول آئینی جمہوریت کا تقاضا ہے کہ استحقاقات پارلیمنٹ کے آزادانہ کردار کے تحفظ کے لیے ہوں، نہ کہ سیاست دانوں کے لیے مستقل خصوصی مراعات کا ذریعہ بن جائیں۔