صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت اجلاس ، مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ

صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس میں اہم اجلاس میں مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید، ڈی جی پی ڈی ایم عمر جاوید اور متعلقہ دیگر اعلی حکام نے شرکت کی ۔

لاہور۔11جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ خواجہ سلمان رفیق کی زیر صدارت پی ڈی ایم اے ہیڈ آفس میں اہم اجلاس میں مون سون بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید، ڈی جی پی ڈی ایم عمر جاوید اور متعلقہ دیگر اعلی حکام نے شرکت کی ۔

ڈی جی خان، بہاولپور، گجرات اور گوجرانوالہ کے کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی ۔ملتان، سیالکوٹ، گجرات، لیہ اور نارووال کے ڈپٹی کمشنرز بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے ۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے اجلاس کو مون سون بارشوں اور ہیٹ ویو اقدامات بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ چولستان کے دور دراز علاقوں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے پانی کے پائپس لے جائے جا رہے ہیں ۔ہیٹ ویو و حبس سے نمٹنے کیلئے پی ڈی ایم اے پنجاب تمام تر وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔

صوبائی وزیر صحت و چیئرمین کابینہ کمیٹی برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ خواجہ سلمان رفیق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ دریائوں کے پاٹ اور رود کوہیوں کے راستوں میں موجود تجاوزات کے خلاف آپریشن کی ہدایت کی گئی ہے۔زیر اعلی پنجاب کے ویژن کے تحت پنجاب کو فلڈ ریزیلنٹ بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ریسکیو کو اس حوالہ سے اربوں روپوں کی لاگت کے جدید آلات سے آراستہ کر دیا گیا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کے تحت ہیٹ ویو کیلئے تمام ضروری اقدامات کر لئے گئے ہیں۔پری ڈیزاسٹر اور پوسٹ ڈیزاسٹر میکانزم کو موثر بنایا جا رہا ہے۔اقدامات سیلاب اور آبی خطرات سے بچا ئوکیلئے موثر ثابت ہوں گے۔

اجلاس میں دریائی کٹاو کی روک تھام کیلئے 11 اسکیموں کا جائزہ لیا گیا ۔دریائے جہلم کے کٹائو سے چک سکندر، سرائے عالمگیر کے قریب مقامی آبادیوں اور زرعی زمین کے تحفظ کیلئے 95.4 ملین کے ہنگامی اقدامات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں ۔بھندر نالہ کے بائیں کنارے پر چک سکندر، کھاریاں کے تحفظ کیلئے 99 ملین روپے کے منصوبے ایجنڈے میں شامل ہیں۔بھندر نالہ کے کٹا ئوسے کرالی گائوں کے تحفظ کیلئے گائیڈ وال کی تعمیر کیلئے 76.447 ملین روپے کے منصوبے ایجنڈے میں شامل ہیں۔کلیال اور پاپین گائوں کو سیلابی کٹا ئو سے بچا ئو کیلئے 99.69 ملین روپے کے منصوبے اجلاس ایجنڈے میں شامل ہیں۔

دریائے سندھ کے کٹا ئوسے موضع نشیب اور موضع تھند کلان کے تحفظ کیلئے 99.69 ملین روپے کے حفاظتی اقدامات ایجنڈے میں شامل ہیں۔چک ناہڑہ کو سیلابی کٹا ئو سے محفوظ رکھنے کیلئے 65 ملین روپے کا منصوبہ ایجنڈے میں شامل ہے۔بین نالہ کے کٹائو سے چھتری گائوں کے تحفظ کیلئے 130 ملین کے منصوبے ایجنڈے میں شامل ہیں ۔چرنی ناگروٹہ جدید گائوں کو بین نالہ کے کٹا ئوسے بچا ئو کیلئے 95 ملین کے منصوبے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ دریائے راوی کے کٹائو سے بالاکی چک کے تحفظ کیلئے 155.5 ملین روپے کے اقدامات ایجنڈے میں شامل ہیں ۔

اسی طرح بین نالہ کے کٹائو سے سکھو چک کے تحفظ کیلئے 62 ملین کے منصوبے ایجنڈے میں شامل ہیں ۔کھوسہ منڈیلی گائوں کے تحفظ کیلئے 62 ملین روپے کی لاگت کے منصوبے ایجنڈے میں شامل ہیں۔سیلاب 2025 کی بنیاد پر اپ ڈیٹ شدہ فلڈ پلین حدود کی نوٹیفکیشن کی منظوری زیر غور لایا گیا۔ اربن یونٹ میں کمزور اضلاع کیلئے فلڈ ہیزرڈ اٹلس کا جائزہ لیاگیا اورکمشنر ملتان نے بتایا کہ ملتان ڈویژن میں 2025 کے سیلاب کے دوران امدادی کارروائیاں، کمزوریاں اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔