فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان کے نجی شعبے کو دفاعی صنعتوں اور نجی مینوفیکچرنگ کے کامیاب انضمام کے ترکیہ کے ماڈل کا مطالعہ کرنا چاہیے، جس سے تکنیکی جدت اور صنعتی ترقی کو فروغ ملا ہے۔
ترکیہ کے صنعتی ماڈل سے استفادہ کر کے پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھا سکتا ہے، شاہد عمران

مزید خبریں
لاہور۔12جولائی (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ پاکستان کے نجی شعبے کو دفاعی صنعتوں اور نجی مینوفیکچرنگ کے کامیاب انضمام کے ترکیہ کے ماڈل کا مطالعہ کرنا چاہیے، جس سے تکنیکی جدت اور صنعتی ترقی کو فروغ ملا ہے۔
اتوار کو یہاں تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے آئندہ تین برسوں میں دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور نجی شعبے کی فعال شمولیت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک سرمایہ کاری، بالخصوص مینوفیکچرنگ کے شعبے میں، پاکستان میں روزگار، برآمدات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے، جبکہ ایران کی تعمیرِ نو میں بھی دونوں ممالک کا نجی شعبہ مشترکہ کردار ادا کر سکتا ہے۔








