ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر، تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کو ہونے والی تعطیلات اور سردیوں میں شدید برفباری کے باعث ملکہ کوہسار مری اب کسی ایک مخصوص موسم کا محتاج نہیں رہا بلکہ سال بھر متحرک رہنے والا ایک عالمی معیار کا فور سیزن سیاحتی مرکز بن چکا ہے، جہاں اگلے 20 دنوں کے دوران مری ضلع اور اس کے مضافات میں 10 لاکھ سے …
مری میں آئندہ 20 یوم میں 10 لاکھ گاڑیوں کا داخلہ متوقع ، سمارٹ ڈیٹا ڈریون کمانڈ سسٹم فعال کر دیا ہے، ڈی پی او

مزید خبریں
مری۔ 12 جولائی (اے پی پی):ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر، تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کو ہونے والی تعطیلات اور سردیوں میں شدید برفباری کے باعث ملکہ کوہسار مری اب کسی ایک مخصوص موسم کا محتاج نہیں رہا بلکہ سال بھر متحرک رہنے والا ایک عالمی معیار کا فور سیزن سیاحتی مرکز بن چکا ہے، جہاں اگلے 20 دنوں کے دوران مری ضلع اور اس کے مضافات میں 10 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے داخلے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری ڈاکٹر رضا تنویر نے پنجاب پولیس کے انٹیلی جنس ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (آئی ٹی ایم ایس) کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جہاں موسمِ سرما کی شدید سردی اور برفباری کے دوران صرف جنوری کے مہینے میں 3 لاکھ 40 ہزار 255 گاڑیاں ڈسٹرکٹ مری اور 3 لاکھ 27 ہزار 925 گاڑیاں مری شہر میں داخل ہوئیں، وہیں گرمائی سیزن کے آغاز پر مئی کے مہینے میں ریکارڈ 3 لاکھ 94 ہزار 523 گاڑیوں کی ڈسٹرکٹ انٹری رپورٹ ہوئی۔ اس کے فوراً بعد جون کے مہینے میں ٹرینڈ یکسر تبدیل ہوا اور ریکارڈ 4 لاکھ 11 ہزار 935 گاڑیوں کے ساتھ مری شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی سٹی انٹری درج کی گئی۔

ڈی پی او مری ڈاکٹر رضا تنویر نے بتایا کہ یہ ڈیٹا واضح کرتا ہے کہ مئی میں سیاح مری کے مضافاتی علاقوں (پتریاٹہ، بھوربن، نتھیا گلی) میں پھیلے ہوئے تھے جو جون آتے ہی مری شہر کے اندرونی روڈ نیٹ ورک پر منتقل ہو گئے، جبکہ جولائی کے محض ابتدائی نو دنوں (1 تا 9 جولائی)کے اعدادوشمار کے مطابق ڈسٹرکٹ مری میں139,782 سیاحوں اور مری سٹی میں165,701 سیاحوں کی آمد کے ساتھ پہلے ہی اس قدر بلند ہیں کہ یہ رواں سال کا مصروف ترین اور ریکارڈ توڑ مہینہ بننے جا رہا ہے۔
ان اعداد وشمار کے کی گئی پروجیکشن کے مطابق 31جولائی تک مری ضلع اور شہر میں 10لاکھ گاڑیوں کی آمدمتوقع ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مری، ڈاکٹر رضا تنویر نے تصدیق کی ہے کہ مری کا ‘فور سیزنل’ سیاحتی مقام بننا اور شدید گرمی و سکولوں کی چھٹیوں کے باعث گاڑیوں کے اس حالیہ تعداد کا آنا ایک غیر معمولی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مری پولیس نے روایتی پولیسنگ کو فوری طور پر ‘پریڈیکٹو کرائسز مینجمنٹ’ میں تبدیل کر کے اپنا ہائی ٹیک ‘اسمارٹ ڈیٹا ڈریون کمانڈ سسٹم’ فعال کر دیا ہے تاکہ شہر اور اس کے مضافاتی راستوں کو کسی بھی ممکنہ گریڈ لاک (مکمل جام) سے بچایا جا سکے۔
ڈی پی او مری نے مری پولیس کی جدید اور مربوط تیاریوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اب ہم سڑک پر ٹریفک جام ہونے کے بعد حرکت میں آنے کے روایتی کلچر کو ختم کر کے آئی ٹی ایم ایس اور سیف سٹی کے لائیو ڈیٹا کی مدد سے پروایکٹو ایکشن پلان پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی اور جون کے بدلتے ہوئے ٹریفک پیٹرنز کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے کے بعد ہم نے جولائی کے اس ہنگامی دباؤ سے نمٹنے کے لیے قریبی اضلاع سے اضافی ٹریفک وارڈنز، سیف سٹی مانیٹرنگ ماہرین، ریسکیو سروسز اور ٹورسٹ فیسیلی ٹیشن اسٹاف پر مشتمل بھاری عارضی نفری مری اور اس کے مضافاتی روٹس پر تعینات کر دی ہے اور جیسے ہی گاڑیوں کی تعداد سڑکوں کی آپریشنل کیپسٹی کے قریب پہنچتی ہے، لائیو ڈائیورژنز فعال کر کے ٹریفک کو متبادل بائی پاس راستوں پر موڑ دیا جاتا ہے تاکہ سیاحوں بالخصوص فیملیز اور طلباء کو سفر میں کوئی پریشانی نہ ہو۔
ڈی پی او مری کا کہنا تھا کہ مری پولیس سیاحوں کے محفوظ اور پرسکون سفر کو یقینی بنانے کے لیے دن رات ہائی الرٹ پر ہے، تاہم مری آنے والے شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ سفر پر روانہ ہونے سے قبل لائیو ٹریفک اپڈیٹس کو لازمی مدنظر رکھیں تاکہ ملکہ کوہسار کا سفر ان کے لیے خوشگوار ثابت ہو سکے۔







