عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں ایبولا وائرس کے 80 فیصد نئے کیسز ایسے ذرائع سے سامنے آ رہے ہیں جن کی منتقلی کا سلسلہ معلوم نہیں ہو سکا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری صحت حکام کی نگرانی سے زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے
کانگو میں ایبولا کے 80 فیصد نئے کیسز نامعلوم ذرائع سے منتقل، متاثرہ افراد کی تعداد2ہزار ہو گئی، ڈبلیو ایچ او

مزید خبریں
کنشاسا۔15جولائی (اے پی پی):عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں ایبولا وائرس کے 80 فیصد نئے کیسز ایسے ذرائع سے سامنے آ رہے ہیں جن کی منتقلی کا سلسلہ معلوم نہیں ہو سکا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیماری صحت حکام کی نگرانی سے زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔اماراتی نیوز ایجنسی وام کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ کانگو میں مئی سے ایبولا کی ایک نایاب قسم کی وبا پھیلی ہوئی ہے، جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ علاج یا ویکسین دستیاب نہیں۔ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق یہ براعظم میں تیزی سے پھیلنے والی ایبولا کی بدترین وبا بن چکی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 2,011 ہو گئی ہے، جبکہ 754 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ملک کے قومی ادارہ صحت نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا کہ پیرکو اتوری، شمالی کیوو اور اوت-اوئیلے صوبوں میں 54 نئے کیسز سامنے آئے۔








