وفاقی حکومت نے نظرثانی شدہ اپ سکیلنگ آف گرین پاکستان پروگرام (یو جی پی پی) کے تحت مالی سال 27-2026 میں ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق تین نئے منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں مارگلہ ہلز اسلام آباد میں قومی بوٹینیکل گارڈن اور آلودگی کی نگرانی کا جدید نظام شامل ہیں
وفاقی حکومت کا 122 ارب روپے کے گرین پاکستان پروگرام کے تحت تین نئے منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔15جولائی (اے پی پی):وفاقی حکومت نے نظرثانی شدہ اپ سکیلنگ آف گرین پاکستان پروگرام (یو جی پی پی) کے تحت مالی سال 27-2026 میں ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق تین نئے منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں مارگلہ ہلز اسلام آباد میں قومی بوٹینیکل گارڈن اور آلودگی کی نگرانی کا جدید نظام شامل ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق نظرثانی شدہ یو جی پی پی کی مجموعی لاگت 122 ارب 14 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے تحت وفاقی حکومت کا حصہ 76 ارب 32 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے۔ 2019 سے 2028 تک جاری رہنے والے اس پروگرام کے لیے مالی سال 27-2026 میں 2 ارب 33 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق یہ پروگرام وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کا مقصد بڑے پیمانے پر شجرکاری، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ ، کاربن ذخیرہ کرنے کے ذریعے قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور پاکستان کے قدرتی وسائل کو مضبوط بنانا ہے۔یہ منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے مالی معاونت حاصل کرے گا۔ اس میں وفاقی حکومت کا حصہ تقریباً 76 ارب 30 کروڑ روپے جبکہ صوبائی حکومتوں کا تخمینہ شدہ حصہ 45 ارب 80 کروڑ روپے ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ پروگرام موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت اور اس کے اثرات میں کمی دونوں اہداف کی تکمیل میں معاون ہوگا، کاربن کریڈٹس کے حصول کی راہ ہموار کرے گا اور پاکستان کو ماحولیاتی تحفظ سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کی تکمیل میں مدد دے گا۔پروگرام کے اہم اجزا میں سرکاری اور کمیونٹی اراضی پر جنگلات کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، لکڑی کے علاوہ جنگلاتی مصنوعات کا فروغ، کاربن فنانسنگ، جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس)، ریموٹ سینسنگ کے ذریعے قدرتی وسائل کا جائزہ، ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ، نگرانی اور باہمی تجربات کے تبادلے کے نظام شامل ہیں۔مالی سال 27-2026 میں شامل کیے جانے والے پہلے منصوبے کے تحت مارگلہ ہلز نیشنل پارک اور اس کے بفر زونز میں بین الاقوامی معیار کے مطابق حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی مناظر کے انتظام کا منصوبہ شروع کیا جائے گا جس کی مجموعی لاگت ایک ارب 68 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے۔اس منصوبے کے تحت مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر اور اربن فاریسٹری یونٹ قائم کیے جائیں گے جن کا مقصد جنگلی حیات کا تحفظ، زخمی یا متاثرہ جانوروں کی بحالی اور شہری علاقوں میں سبزہ بڑھانا ہے۔ یہ منصوبہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے ماتحت ادارے اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔دوسرا منصوبہ اسلام آباد کے بنی گالہ میں نیشنل بوٹینیکل گارڈن (فیز اول)کے قیام سے متعلق ہے جس کی مجموعی لاگت 80 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کا مقصد نباتاتی انواع کا تحفظ، پاکستان کے قدرتی ورثے کی حفاظت اور حیاتیاتی تنوع سے متعلق قومی و بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل میں معاونت فراہم کرنا ہے۔منصوبے کے تحت نرسریاں، سیڈ بینک اور ہربیریم کی سہولتیں قائم کی جائیں گی تاکہ پودوں کے جینیاتی ذخائر کا طویل المدتی تحفظ اور ان کے پائیدار استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔منصوبے کی منظوری کے بعد اسے وزارت کے ماتحت ادارے زولوجیکل سروے آف پاکستان کے سپرد کیا جائے گا۔ نیشنل بوٹینیکل گارڈن کو پاکستان میں پودوں کی اقسام کے تحفظ، تحقیق، دستاویز سازی، افزائش اور عوامی نمائش کے لیے ایک قومی ادارے کے طور پر ترقی دی جائے گی۔اس منصوبے کے تحت خصوصی تھیم پر مبنی باغات، تحقیقی مراکز، ہربیریم، سیڈ بینک، نرسری کمپلیکس، تعلیمی و سیاحتی سہولتیں اور ماحولیاتی بحالی کے مقامات قائم کیے جائیں گے۔ توقع ہے کہ اس سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی لچک، سائنسی تحقیق، ماحولیاتی آگاہی اور پائیدار ماحولیاتی سیاحت کو فروغ ملے گا۔تیسرا مجوزہ منصوبہ پولیوشن لوڈ اسیسمنٹ نیٹ ورک (پلان) ہے جس کی مجموعی لاگت ایک ارب روپے رکھی گئی ہے۔اس منصوبے کے تحت اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری (آئی سی ٹی)میں ہوا اور پانی کی آلودگی کی نگرانی کے لیے جدید تکنیکی انفراسٹرکچر قائم اور متعلقہ اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ شواہد پر مبنی ماحولیاتی قوانین کے نفاذ، پالیسی سازی اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد کی مؤثر نگرانی میں معاون ثابت ہوگا۔پولیوشن لوڈ اسیسمنٹ نیٹ ورک وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے ماتحت ادارے پاکستان انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (پاک ای پی اے)کے ذریعے چلایا جائے گا۔








