"چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام روبینہ خالد نے پشاور میں بی آئی ایس پی کے تحصیل دفاتر کا دورہ کرتے ہوئے مستحق خواتین کو فراہم کی جانے والی سہولیات، دفتری امور اور عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔”
حکومت غریب اور مستحق خاندانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہے ، چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد

مزید خبریں
پشاور۔ 15 جولائی (اے پی پی):چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) روبینہ خالد نے بدھ کے روز پشاور میں بی آئی ایس پی کے تحصیل آفس ٹاؤن ون (گڑھی راجکول، دالہ زاک روڈ) اور تحصیل آفس ٹاؤن ٹو (ورسک روڈ) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مستحق خواتین کو فراہم کی جانے والی سہولیات، دفتری امور اور عملے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
ٹاؤن ون دفتر کے دورے کے دوران دفتر کے انچارج محمد سجاد نے چیئرپرسن کو ادارے کی کارکردگی اور درپیش مسائل سے متعلق بریفنگ دی۔ روبینہ خالد نے دفتر کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا، عملے سے مسائل دریافت کیے اور مستحق خواتین کی شکایات براہ راست سنیں۔ انہوں نے موقع پر ہی متعدد شکایات کے ازالے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غریب اور مستحق خاندانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ہر مستحق خاتون کو اس کا حق ہر صورت فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی اہلکار کی جانب سے بدسلوکی یا غیر قانونی مطالبہ کیا جائے تو اس کی فوری شکایت کی جائے، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام مستحق خواتین دفتر آتے وقت اپنا موبائل فون لازماً ساتھ لائیں، کیونکہ نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت ہر مستحق خاتون کو مفت سم جاری کی جائے گی، جسے دفتر کا عملہ فعال کرے گا اور اسی کے ذریعے مالی معاونت کی رقم منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی خاتون کو موبائل کے بغیر پراسیس کیا گیا تو متعلقہ عملے کے خلاف تادیبی کارروائی، حتیٰ کہ معطلی بھی عمل میں لائی جائے گی۔چیئرپرسن نے دفتر میں سہولیات کے فقدان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مستحقین کے لیے بہتر انتظار گاہ، اضافی سہولت ڈیسک کے قیام اور مستقل رہنمائی کے لیے ادارے کے نمائندے کی تعیناتی کی ہدایت بھی جاری کی۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خواتین کو جدید ڈیجیٹل والٹ سسٹم کے ذریعے رقوم کی ادائیگی کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا، کٹوتیوں اور استحصال کا خاتمہ اور مستحقین کو باعزت انداز میں مالی معاونت کی فراہمی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ مستحق خواتین تک مالی امداد مکمل شفافیت کے ساتھ پہنچائی جائے۔ ماضی کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس نظام کو سمجھنے میں کچھ مشکلات پیش آ سکتی ہیں، تاہم مکمل نفاذ کے بعد خواتین ملک بھر میں کسی بھی وقت حبیب بینک، بینک الفلاح، ایزی پیسہ یا جاز کیش کے مجاز مراکز سے اپنی رقم آسانی اور عزت کے ساتھ وصول کر سکیں گی ۔انہوں نے بتایا کہ رقم کی منتقلی اور وصولی سے متعلق مستحقین کو موبائل فون پر پیغامات موصول ہوں گے، جس سے غیر قانونی کٹوتیوں اور دکانداروں کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی خصوصی سم صرف بی آئی ایس پی دفاتر سے مفت جاری کی جائے گی اور یہ بازار میں دستیاب نہیں ہوگی۔ سم کے فعال ہونے کے چند روز بعد مستحق خاتون کو رقم کی منتقلی کا پیغام موصول ہوگا۔روبینہ خالد نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کی عکاسی کرتا ہے اور اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے مستحق خواتین کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مستحقین اور میڈیا کے تعاون سے ایسی تمام کوششیں ناکام بنائی جائیں گی۔دریں اثنا، چیئرپرسن نے بی آئی ایس پی کے تحصیل آفس ٹاؤن ٹو، ورسک روڈ پشاور کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مستحق خواتین کے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے خاندانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی اور ان کے مسائل کے بروقت حل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔








