نیدرلینڈز میں حالیہ شدید گرمی کے دوران 900 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ

نیدرلینڈز میں حالیہ شدید گرمی کی لہر کے دوران 900 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ ان میں گرمی نے ممکنہ طور پر اہم کردار ادا کیا۔شنہوا کے مطابق نیدرلینڈز کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ نے کہا ہے کہ 22 جون سے 5 جولائی کے درمیان متوقع شرح کے مقابلے میں 911 اضافی اموات …

دی ہیگ ۔16جولائی (اے پی پی):نیدرلینڈز میں حالیہ شدید گرمی کی لہر کے دوران 900 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ ان میں گرمی نے ممکنہ طور پر اہم کردار ادا کیا۔شنہوا کے مطابق نیدرلینڈز کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ہیلتھ اینڈ دی انوائرمنٹ نے کہا ہے کہ 22 جون سے 5 جولائی کے درمیان متوقع شرح کے مقابلے میں 911 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ادارے کے مطابق ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں، جہاں درجہ حرارت سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، وہاں اموات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا اور ان علاقوں میں 576 اضافی اموات ہوئیں۔ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جن میں 547 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔آر آئی وی ایم نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ اموات کی حتمی وجوہات معلوم نہیں، تاہم اس بات کا قوی امکان ہے کہ شدید گرمی نے ان میں کردار ادا کیا۔ ادارے نے عوام پر زور دیا کہ گرمی کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ادارے کے مطابق معمر افراد اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد شدید گرمی کے دوران زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں، جبکہ گرمی کی لہر کے دوران فضائی آلودگی میں اضافے نے بھی حساس طبقات پر اضافی دباؤ ڈالا ہو سکتا ہے۔رائل نیدرلینڈز میٹرولوجیکل انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 22 سے 28 جون کے دوران درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 39.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔حکام نے بتایا کہ ملک کے بعض علاقوں میں اب بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے، جبکہ 11 جولائی سے وسطی اور جنوبی نیدرلینڈز کے سات صوبوں میں قومی ہیٹ پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے تحت طبی عملے، نگہداشت فراہم کرنے والوں اور رضاکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بزرگوں اور دیگر حساس افراد کی خصوصی دیکھ بھال کریں۔