وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کاروبار میں آسانی کے لئے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی کاروبار میں آسانی کے لئے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ کا عمل تیز کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کاروبار میں آسانی کے لئے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کاروبار میں آسانی کیلئے اقدامات پر جائزہ اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا ، اعظم نذیر تارڑ، قیصر احمد شیخ، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیراعظم محمد علی، معاون خصوصی ہارون اختر، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی جبکہ گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شعبے کے ماہرین وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں ہدایت کی کہ کاروبار میں آسانی کیلئے حکومت کے پالیسی اقدامات اور آسان کاروبار ایکٹ 2025 کے نفاذ میں تیزی لائی جائے۔ انہوں نے کاروبار میں آسانی کے اقدامات کی افادیت اور نفاذ کی جانچ کیلئے بین الاقوامی اداروں سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مقامی و بیرونی سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کاروبار میں آسانی کیلئے پالیسی اقدامات کے نفاذ پر جامع رپورٹ مرتب کرکے جلد پیش کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے کاروبار میں آسانی کیلئے قانون و پالیسی سازی پر وزرات قانون و انصاف، ایس آئی ایف سی، سرمایہ کاری بورڈ، وزارت کامرس، وزارت صنعت اور تمام متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو لائق تحسین قرار دیا۔ اجلاس کو اقدامات کے نفاذ پر جائزے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں کاروبار میں آسانی کیلئے مختلف ضوابط اور کاغذی کارروائیوں و منظوریوں کو کم کرنے کے حوالے سے 558 اصلاحات پر کام مکمل ہو چکا ہے جس میں سے 71 پالیسی اقدامات نافذ ہو گئے ہیں جبکہ 272 کے نفاذ پر کام تیزی سے جاری ہے، 7 مرحلوں میں مختلف شعبوں میں ان کا نفاذ کیا جا رہا ہے، ان اقدامات کی بدولت کاروباری برادری کو مختلف ضابطوں و شرائط پر خرچ ہونے والی بچت کی رقم کا تخمینہ 468.7 ارب روپے ہے۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری و پیچیدہ کاغذی کارروائی اور ضوابط کے خاتمے سے برآمدات اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردگی کی جانچ میں ان کی جانب سے کاروبار میں آسانی کے اقدامات کے نفاذ اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع کو کلیدی اہمیت دی جائے۔








