ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے صنعتی انقلاب 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے ملک بھر کی جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ڈگری پروگراموں اور نصاب کا ازسرِ نو جائزہ لے کر انہیں جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔
جامعات اپنے ڈگری پروگراموں اور نصاب کا ازسرِ نو جائزہ لے کر انہیں جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں، ایچ ای سی کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے صنعتی انقلاب 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے ملک بھر کی جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ڈگری پروگراموں اور نصاب کا ازسرِ نو جائزہ لے کر انہیں جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ ایچ ای سی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد اعلیٰ تعلیمی نظام کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا، طلبہ کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرنا اور پاکستان کو سبز، ڈیجیٹل اور جامع معیشت کی جانب منتقلی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ جامعات اپنے نصاب کو مستقبل کی افرادی قوت کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیں، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو تعلیمی پروگراموں کا حصہ بنائیں، صنعت اور جامعات کے درمیان روابط کو مضبوط کریں اور عملی تعلیم کے مواقع میں اضافہ کریں۔ اس کے علاوہ تنقیدی سوچ، اختراع اور کاروباری صلاحیتوں کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ایچ ای سی کے مطابق اس قومی تبدیلی کے عمل میں جامعات، قومی نصاب جائزہ کمیٹیاں، منظوری دینے والے ادارے، صنعتی شعبے کے نمائندے اور مختلف مضامین کے ماہرین شریک ہیں، یہ سرگرمیاں ایک قومی ٹاسک فورس کی رہنمائی میں انجام دی جا رہی ہیں۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ جامعات کو نئی اور ابھرتی ہوئی تعلیمی شعبہ جات کی نشاندہی کرنے، موجودہ پروگراموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ایسے فارغ التحصیل افراد تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو صنعتی انقلاب 5.0 کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے مطلوبہ علم اور مہارتیں رکھتے ہوں۔ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کو عالمی رجحانات کے مطابق بنانے اور قومی اقتصادی ترقی میں جامعات کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔








