فارماسیوٹیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری کے معاہدے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کا نیوز کانفرنس سے خطاب

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان مینوفیکچرنگ ہب بننے جا رہا ہے، چینی کمپنیوں نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان-چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان مینوفیکچرنگ ہب بننے جا رہا ہے، چینی کمپنیوں نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان-چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، سی سی او ٹیڈیپ فیض احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرنے یا آنے کے لیے تیار نہیں، وہ پاکستان-چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کا منظر خود دیکھ لیں۔انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں شرکت کے لیے چین سے 300 سے زائد وفود پاکستان آئے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور صنعتی تعاون پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔ہارون اختر نے کہا کہ فارماسیوٹیکل سیکٹر کے ساتھ ساتھ موبائل فون اور دیگر صنعتی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری آ رہی ہے جبکہ گزشتہ سات سے آٹھ ماہ کے دوران مختلف شعبوں میں سات سے آٹھ سو سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں میں سے تقریباً 30 فیصد پر عملی کام کا آغاز بھی ہو چکا ہے جو حکومتی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان-چین کانفرنس میں پہلے روز 500 ملین ڈالر مالیت کے معاہدے طے پا چکے ہیں جبکہ کانفرنس میں ہونے والے معاہدوں کا حجم اربوں ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے خواہشمند غیر ملکی اداروں اور کمپنیوں کی بڑی تعداد پاکستان کا رخ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار کمپنیوں کی آمد اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ان سے ملاقاتوں اور معاملات کو نمٹانے کے لیے وقت بھی کم پڑ رہا ہے۔ہارون اختر نے مزید کہا کہ صرف فارماسیوٹیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری کے معاہدے پاکستان کے صحت اور صنعتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔

مزید خبریں