دانیال چوہدری کا اقلیتی حقوق کے حوالے سے پاکستان کو سلیکٹو لیکچرز دینے پر سخت ردعمل کا اظہار

وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت اطلاعات و نشریات دانیال چوہدری نے جی ایس پی پلس اسیسمنٹ کے دوران اقلیتی حقوق کے حوالے سے پاکستان کو نشانہ بنانے اور "سلیکٹو لیکچرز” (مخصوص بیانیے) دینے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد۔17جولائی (اے پی پی):وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت اطلاعات و نشریات دانیال چوہدری نے جی ایس پی پلس اسیسمنٹ کے دوران اقلیتی حقوق کے حوالے سے پاکستان کو نشانہ بنانے اور "سلیکٹو لیکچرز” (مخصوص بیانیے) دینے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے ایک بیان میں پارلیمانی سیکرٹری نے ملک میں مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جی ایس پی پلس اسیسمنٹ ایک بار پھر اقلیتی حقوق پر سلیکٹو لیکچرز کا پلیٹ فارم بن چکی ہے۔مغربی ممالک سے موازنہ کرتے ہوئے دانیال چوہدری نے واضح اعداد و شمار پیش کئے کہ 97 فیصد مسلم آبادی والے پاکستان میں 2,189 گرجا گھر (ہر 1,206 عیسائیوں کے لئے 1 چرچ)، 732 مندر (ہر 5,669 ہندوؤں کے لئے 1 مندر) اور 58 گردوارے (ہر 159 سکھوں کے لئے 1 گوردوارہ) موجود ہیں۔

اس کے برعکس برطانیہ میں ہر 2,249 مسلمانوں کے لئے صرف ایک مسجد دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ریاست یا معاشرے کی سطح پر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اقلیتوں کے مذہبی تہواروں کو منانے کے لئے خصوصی اقدامات کرتی ہیں اور ان کے مقدسات و عبادت گاہوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کو یقینی بنایا جاتا ہے۔مغربی ممالک میں مذہبی آزادیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری نے فرانس کی مثال دی جہاں 2004 میں حجاب، 2011 میں نقاب اور 2023 میں سکولوں میں عبایا پہننے پر پابندی عائد کی گئی۔ انہوں نے بیلجیم، ڈنمارک، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ اور نیدرلینڈز میں بھی چہرہ ڈھانپنے پر عائد پابندیوں کا ذکر کیا۔

دانیال چوہدری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام حقائق کے باوجود یورپی یونین مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کرنے والی این جی اوز کے تیار کردہ بیانیے کو دہراتی رہتی ہے جبکہ پاکستان کی آئینی ضمانتوں، قانونی اصلاحات اور اقلیتوں کے تحفظ کے لئے جاری مسلسل کوششوں کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔