اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے اداروں نے کہا ہے کہ مشرقی جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے باوجود تشدد اور بدامنی کی صورتحال کے درمیان بیماری پر قابو پانے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں
ڈی آر کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کے دوران تشدد میں اضافہ، اقوام متحدہ کی امدادی کارروائیاں تیز

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔18جولائی (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے اداروں نے کہا ہے کہ مشرقی جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے باوجود تشدد اور بدامنی کی صورتحال کے درمیان بیماری پر قابو پانے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے)نے بتایا کہ امدادی شراکت دار، کانگو کی حکومت کے تعاون سے نگرانی، لیبارٹری ٹیسٹنگ، علاج اور مقامی آبادی میں آگاہی کے اقدامات کو وسعت دے رہے ہیں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ادارے کے مطابق حالیہ وبا کو ریکارڈ پر ایبولا کی تیسری بڑی وبا قرار دیا گیا ہے۔بدھ تک کے اعداد و شمار کے مطابق ایبولا کے 2,124 تصدیق شدہ کیسز ایتوری، شمالی کیوو، جنوبی کیوو، اوت-اوئیلے اور تشوپو صوبوں میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔ ایتوری کے علاقے بونیا اور روامپارا اس وبا کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور خدشہ ہے کہ متعدد متاثرہ افراد ابھی تک صحت کے نظام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔کانگو کی حکومت نے امدادی کارروائیوں کو مضبوط بنانے کے لیے 10 ایمبولینسیں ایتوری روانہ کی ہیں، جنہیں مریضوں کی منتقلی اور علاج کے انتظامات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔دوسری جانب شمالی کیوو کے علاقے بینی میں بدھ کے روز ہونے والے ایک حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اتوار سے اب تک اس علاقے میں پرتشدد واقعات میں کم از کم 22 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔او سی ایچ اے نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث شہری نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں تک امدادی رسائی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ ادارے نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں، طبی عملے اور امدادی ٹیموں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ وبا پر قابو پانے اور ضرورت مند افراد تک جان بچانے والی امداد پہنچانے کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔








