وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی شیزانگ خودمختار خطے کی عوامی حکومت کے نائب چیئرمین سے ملاقات

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے چین کے شیزانگ خودمختار خطے کی عوامی حکومت کے نائب چیئرمین شو زی تاؤ سے 5ویں چائنا شیزانگ ٹرانس ہمالیہ فورم کے موقع پر ملاقات کی۔

شیزانگ، چین۔18جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے چین کے شیزانگ خودمختار خطے کی عوامی حکومت کے نائب چیئرمین شو زی تاؤ سے 5ویں چائنا شیزانگ ٹرانس ہمالیہ فورم کے موقع پر ملاقات کی۔ہفتہ کووزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب چیئرمین نے وفاقی وزیر اور پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے شیزانگ خودمختار خطے کی تاریخ، جغرافیہ، سیاسی ارتقاء، معاشی ترقی اور بھرپور ثقافتی ورثے کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے خطے کے ترقیاتی ماڈل پر بھی روشنی ڈالی جس میں ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ملاقات کے دوران نائب چیئرمین نے بتایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران شیزانگ میں سماجی و معاشی ترقی کے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عوامی فلاح اور مجموعی سماجی و اقتصادی ترقی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ ماحولیاتی تحفظ شیزانگ کی ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خطے میں 47 قومی پارکس قائم ہیں اور ترقیاتی سرگرمیوں کو قدرتی ماحول اور ماحولیاتی خصوصیات کے تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

نائب چیئرمین نے شیزانگ کے ثقافتی اور مذہبی تنوع کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس خطے میں کشمیری نژاد مسلمانوں کی ایک چھوٹی برادری بھی تاریخی طور پر آباد ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے گرمجوش استقبال اور مہمان نوازی پر نائب چیئرمین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔دونوں جانب سے ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی، سائنسی تحقیق، جدت، پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور شیزانگ کے قدرتی اور پہاڑی ماحولیاتی نظام میں کئی مشترکہ خصوصیات پائی جاتی ہیں، جن کی بنیاد پر علم، تجربات اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ سے دونوں خطے باہمی استفادہ کر سکتے ہیں۔ملاقات میں روایتی علوم، بالخصوص تبتی طب کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر اس امر کا ذکر کیا گیا کہ تبتی طب سے وابستہ بعض روایتی طریقۂ علاج اور ادویات پاکستان کے گلگت بلتستان میں بھی رائج ہیں، جو تحقیق اور علمی تعاون کے نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر ڈاکٹر مصدق ملک نے چین کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ موسمیاتی اقدامات اور سائنسی تحقیق کے شعبوں میں مزید تعاون دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کرے گا۔

 

مزید خبریں