ڈیگ نالا بیماری سے مویشیوں کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے،ڈائریکٹر لائیو سٹاک

محکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ نے مویشی پال حضرات کو خبردار کیا ہے کہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران زیادہ نمی والے یا خراب و پھپھوندی زدہ چارے کے استعمال سے جانوروں میں ڈیگ نالا بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

فیصل آباد۔ 22 جولائی (اے پی پی):محکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ نے مویشی پال حضرات کو خبردار کیا ہے کہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران زیادہ نمی والے یا خراب و پھپھوندی زدہ چارے کے استعمال سے جانوروں میں ڈیگ نالا بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ ایک غیر متعدی بیماری ہے جو پھپھوندی لگے چارے میں موجود زہریلے مادوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور جانوروں کی صحت و پیداواری صلاحیت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ڈائریکٹر محکمہ لائیو سٹاک ڈاکٹر حیدر علی خان نے اے پی پی کو بتایا کہ اس بیماری کی نمایاں علامات میں دم، کان اور کھروں کے سروں پر زخم یا سوزش، جلد کا خشک ہو کر اترنا، لنگڑا پن، جانور کے وزن اور دودھ کی پیداوار میں کمی شامل ہیں۔ بیماری کی شدت بڑھنے پر متاثرہ حصے گل سکتے ہیں جس سے جانور کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔انہوں نے مویشی پال حضرات کو ہدایت کی ہے کہ خراب، باسی یا پھپھوندی لگا چارہ فوری طور پر استعمال سے روک دیں اور جانوروں کو صرف صاف، معیاری اور خشک خوراک فراہم کریں۔

متاثرہ جانور کو دیگر جانوروں سے الگ رکھ کر فوری طور پر قریبی ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تاکہ بروقت تشخیص اور مناسب علاج ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ بیماری سے بچاؤ کے لیے چارہ اور بھوسہ خشک اور ہوادار جگہ پر محفوظ رکھا جائے، پھپھوندی لگی خوراک ہرگز استعمال نہ کی جائے، جانوروں کو متوازن غذا اور صاف پانی مہیا کیا جائے اور باقاعدگی سے ویٹرنری معائنہ کروایا جائے۔انہوں نے زور دیا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے ذریعے نہ صرف ڈیگ نالا بیماری سے جانوروں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے بلکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں کمی جیسے معاشی نقصانات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ مویشی پال حضرات سے اپیل کی گئی ہے کہ بیماری کی کسی بھی علامت کی صورت میں فوری طور پر محکمہ لائیو سٹاک یا قریبی ویٹرنری ہسپتال سے رابطہ کریں تاکہ بروقت علاج اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

مزید خبریں