ایران جنگ کے باعث تیل سے آمدن میں 40 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ، عراق
ایران جنگ کے باعث تیل سے آمدن میں 40 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ، عراق

مزید خبریں
بغداد ۔23جولائی (اے پی پی):ایران کے خلاف فروری کے آخر سے جاری جنگ کے باعث عراق کو اس کے خام تیل کی برآمدات میں کمی کے باعث 40 سے 45 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ میں عراق کے وزیر اعظم کے مالیاتی مشیر مظہر صالح کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا اسرائیل جنگ کے دوران عراق کو خام تیل سے آمدن میں کم از کم 40 بلین ڈالر کا نقصان ہوا ۔ مظہر صالح نے کہا کہ عراق کے لیے اس کی تیل کی برآمدات میں 90 فیصد کمی کی وجہ سے شرح نمو میں کمی کے علاوہ تخمینہ شدہ نقصان جون 2026 تک 40 بلین ڈالر سے 45 بلین ڈالر کے درمیان تھا ،اگر آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو یہ نقصان 50 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
پورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے پہلے عراق میں خام تیل کی یومیہ پیداوار تقریباً 40 لاکھ بیرل تھی جس میں سے تقریباً 35 لاکھ روزانہ برآمد کیا جاتا تھا جس میں سے زیادہ تر آبنائے ہرمز کے راستے برآمد کیا جا تا تھا۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے اس راستے سے خام تیل کی برآمد میں کمی کے باعث عراق تیل کی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد عراق ہمسایہ ممالک ترکی اور شام کو صرف قلیل مقدار میں خام تیل برآمد کر سکا ۔عراقی وزیر تیل باسم محمد خدیر نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ان کی وزارت 7 سے 8 بلین ڈالر تک محصولات قومی خزانے میں جمع کراتی تھی جبکہ آج کل ہمارا حصہ کم ہو کر محض ڈیڑھ ارب ڈالر رہ گیا ہے ۔








