نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 ایک سٹریٹجک روڈ میپ کے طور پر کام کرے گی، چوہدری سالک حسین کا تقریب سے خطاب

وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے قومی امیگریشن اور ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجراء کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 ایک سٹریٹجک روڈ میپ کے طور پر کام کرے گی جو پاکستانی کارکنوں کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں کامیابی کے لیے ضروری مہارتوں، علم اور تحفظات سے آراستہ کرے گی اور قومی خوشحالی میں ان کا حصہ …

اسلام آباد۔23جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے قومی امیگریشن اور ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجراء کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 ایک سٹریٹجک روڈ میپ کے طور پر کام کرے گی جو پاکستانی کارکنوں کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں کامیابی کے لیے ضروری مہارتوں، علم اور تحفظات سے آراستہ کرے گی اور قومی خوشحالی میں ان کا حصہ ڈالے گی،یہ ایک تاریخی اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان کے لیبر مائیگریشن سسٹم کو محفوظ مائیگریشن راستوں، مضبوط کارکن تحفظات، جدید مہارتوں کی ترقی اور 12 ملین سے زائد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بہتر معاونت کے ذریعے تبدیل کرنا ہے۔

گزشتہ سال ان کے ریکارڈ ترسیلات زر41 ارب ڈالر سے زائد نے قومی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔جمعرات کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری سالک حسین نے اس پالیسی کو پاکستان کے مائیگریشن گورننس فریم ورک میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ حکومت کی ہر اس پاکستانی کے حقوق، فلاح و بہبود اور امنگوں کی حفاظت کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے جو بیرون ملک روزگار مواقع تلاش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قومی ترقی کے مرکز میں رکھنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس کا مقصد محفوظ اور منظم مائیگریشن کو یقینی بنانا، عالمی سطح پر متعلقہ مہارتوں تک رسائی کو وسعت دینا، کارکنوں کو استحصال سے تحفظ فراہم کرنا، اوورسیز کے ساتھ تال میل کو مضبوط بنانا اور واپس آنے والے مائیگرنٹس کی باعزت دوبارہ بحالی کو آسان بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تیزی سے تکنیکی ترقی، آبادیاتی تبدیلیاں اور عالمی لیبر مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات دنیا بھر کی معیشتوں کو دوبارہ تشکیل دے رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تیزی سے مقابلہ خیز ماحول میں پاکستان کو اپنے ورک فورس کو فعال طور پر تیار کرنا چاہیے تاکہ وہ ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکے اور خود کو ہنر مند انسانی سرمائے کا ایک اہم فراہم کنندہ کے طور پر درجہ بندی کر سکے۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 ایک سٹریٹجک روڈ میپ کے طور پر کام کرے گی جو پاکستانی کارکنوں کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں کامیابی کے لیے ضروری مہارتوں، علم اور تحفظات سے آراستہ کرے گی اور قومی خوشحالی میں ان کا حصہ ڈالے گی۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے 12 ملین سے زائد پاکستانیوں نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیت، لگن اور محنت کے ذریعے ملک کے سب سے موثر سفیروں کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں 41 ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ ترسیلات زر نے پاکستان کی معاشی استحکام اور ترقی میں ان کے بے مثال تعاون کو ظاہر کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔ ان کی فلاح و بہبود، عزت اور تحفظ ہماری قومی ذمہ داریوں میں سرفہرست ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی سرکاری اداروں، ٹریننگ فراہم کرنے والوں، آجرین، ڈویلپمنٹ پارٹنرز اور نجی شعبے کی کوششوں کو ایک متحد قومی ویژن کے تحت مربوط کرتی ہے تاکہ ہر مائیگرنٹ ورکر کو مائیگریشن سائیکل کے ہر مرحلے میں معاونت مل سکے۔

چوہدری سالک حسین نے واضح کیا کہ ریاست کی ذمہ داری روانگی سے بہت پہلے شروع ہو جاتی ہے جس میں کارکنوں کو مارکیٹ سے متعلق مہارتیں، مستند معلومات اور بیرون ملک ملازمت کے لیے مناسب تیاری فراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پالیسی کے کامیاب نفاذ کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ریگولیٹری اداروں، آجرین، ڈویلپمنٹ تنظیموں اور بیرون ملک پاکستانی برادریوں کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہوگا۔وزیر نے صوبائی حکومتوں،آئی سی ایم پی ڈی سمیت ڈویلپمنٹ پارٹنرز اور تمام سٹیک ہولڈرز کا مشاورت کے عمل میں ان کے قیمتی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی تعریف کی کہ اس نے پالیسی کی تشکیل اور حتمی شکل دینے میں مسلسل تعاون اور کلیدی کردار ادا کیا۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ مائیگریشن کو کبھی غیر یقینی یا کمزوری سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ اس کے بجائے یہ موقع، عزت اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔انہوں نے تمام پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ مل کر ایک ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر وہ پاکستانی جو بیرون ملک مواقع تلاش کر رہا ہے، اعتماد کے ساتھ سفر کرے، فخر کے ساتھ کام کرے اور اس قوم سے ہمیشہ جڑا رہے جو اس کے تعاون کو تسلیم اور قدر کرتی ہے۔

 

مزید خبریں