ناروے نے اپنی برآمدات پر نئی امریکی ٹیرف عائد کرنے کی مخالفت کر دی

ناروے نے اپنی درآمدات پر امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے12.5 فیصد ٹیرف کو یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔شنہوا کے مطابق ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے جاری بیان میں کہا کہ ناروے اور دیگر ممالک پر امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے سے سخت اختلاف ہے۔

اوسلو ۔25جولائی (اے پی پی):ناروے نے اپنی درآمدات پر امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے12.5 فیصد ٹیرف کو یکطرفہ اور بلاجواز قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔شنہوا کے مطابق ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے نے جاری بیان میں کہا کہ ناروے اور دیگر ممالک پر امریکہ کی جانب سے یکطرفہ طور پر ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے سے سخت اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے لیے پیش کی گئی امریکی توجیہ بھی ناقابل قبول ہے۔امریکہ نے ناروے سمیت درجنوں ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اس سے قبل نافذ 10 فیصد عالمی اضافی ٹیرف کی جگہ لے گا، جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو گئی۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک جبری مشقت سے تیار کی جانے والی اشیا کی تجارت روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ناروے نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبری مشقت سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی تجارت روکنے کے لیے پہلے سے واضح اور مؤثر قوانین موجود ہیں، اس لیے نیا ٹیرف بے بنیاد ہے۔ناروے کی حکومت کے مطابق امریکہ کو کی جانے والی اس کی تقریباً 67 فیصد برآمدات نئے12.5 فیصد ٹیرف کی زد میں آئیں گی۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے اور آئندہ حکمت عملی طے کرنے کے لیے جلد ہی مزدور یونینوں، آجر تنظیموں اور کاروباری انجمنوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔