وزیراعظم آفس نے وفاقی حکومت میں ڈیجیٹل گورننس، شفافیت، جوابدہی اور نتائج پر مبنی انتظامی نظام کے فروغ کے لیے اپنا سسٹم مکمل طور پر فعال بنانے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں، اس سسٹم کو حکومت کے مرکزی ڈیجیٹل کمانڈ اور مانیٹرنگ پلیٹ فارم کے طور پر بروئے کار لاتے ہوئے بین الوزارتی رابطوں، کارکردگی کی نگرانی اور عوامی خدمت کی فراہمی کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز رفتار …
پی ایم آفس میں اعلیٰ سطحی اجلاس، ڈیجیٹل گورننس، شفافیت، جوابدہی اور نتائج پر مبنی نظام کے فروغ کے لیے سسٹم مکمل طور پر فعال کرنے کے اقدامات تیز

مزید خبریں
اسلام آباد۔25جولائی (اے پی پی):وزیراعظم آفس نے وفاقی حکومت میں ڈیجیٹل گورننس، شفافیت، جوابدہی اور نتائج پر مبنی انتظامی نظام کے فروغ کے لیے اپنا سسٹم مکمل طور پر فعال بنانے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں، اس سسٹم کو حکومت کے مرکزی ڈیجیٹل کمانڈ اور مانیٹرنگ پلیٹ فارم کے طور پر بروئے کار لاتے ہوئے بین الوزارتی رابطوں، کارکردگی کی نگرانی اور عوامی خدمت کی فراہمی کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے گا۔ہفتے کو وزارت اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت نے حقیقی وقت پر مبنی حکمرانی، ڈیجیٹل احتساب اور نتائج پر مبنی عوامی انتظامیہ کے فروغ کے لیے پی ایم آفس سسٹم کو مکمل طور پر فعال بنانے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں ،اس حوالے سے پی ایم آفس میں سیکرٹریز کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ سرکاری امور کی انجام دہی اور نگرانی کو مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے مزید مؤثر، شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے گا تاکہ وزیراعظم کی ترجیحات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و سٹیبلشمنٹ ڈویژن احد چیمہ اور وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ نے کی۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹریز، پی ایم آفس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔وزیراعظم آفس گورننس ریفارمز یونٹ کے سربراہ مشرف رسول نے پی ایم آفس سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے اس کی عملی خصوصیات، کارکردگی کی نگرانی کی صلاحیت اور حکومتی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اس کے کردار سے آگاہ کیا۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی تکنیکی ٹیم نے اجلاس کو بتایا کہ نظام میں تمام ابتدائی تکنیکی بہتریاں کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہیں اور اب یہ پلیٹ فارم مکمل طور پر مستحکم، تیز رفتار اور وفاقی حکومت کی سطح پر حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ پی ایم آفس سسٹم حکمرانی کے شعبے میں انقلابی پیش رفت ہے جو روایتی دستی طریقہ کار کی جگہ مربوط ڈیجیٹل نظام فراہم کرتا ہے، اس کے ذریعے براہِ راست نگرانی، فوری فیڈبیک، اعدادوشمار پر مبنی فیصلہ سازی اور وزارتوں کے درمیان مؤثر رابطہ ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف منصوبوں اور فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت جانچنے اور خامیوں کی نشاندہی کے لیے بار بار خط و کتابت اور طویل فالو اپ کی ضرورت پیش آتی تھی، تاہم پی ایم آفس سسٹم کے ذریعے اب تمام تفویض کردہ امور کی حقیقی وقت میں نگرانی کر سکے گا جس سے رکاوٹوں کی بروقت نشاندہی، فوری حل اور حکومتی فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے گا۔وفاقی وزیر نے زور دیا کہ وزیراعظم آفس سسٹم حکومت کے مرکزی ڈیجیٹل کمانڈ اور رابطہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جو شفافیت، جوابدہی، بروقت فیصلوں اور وزارتوں و ڈویژنوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دے گا۔نظام کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے احد چیمہ نے تمام وفاقی سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ آئندہ ہفتے تک اپنی متعلقہ وزارتوں کا زیادہ تر ڈیٹا پی ایم آفس کے سسٹم پر اپ لوڈ کر دیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہر وفاقی سیکرٹری روزانہ کم از کم دو مرتبہ نظام پر اپنے سپرد کردہ امور کا جائزہ لے تاکہ وزیراعظم آفس کی ہدایات پر بروقت عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ معمول کے نوعیت کے تمام کاموں کو بلا تاخیر مکمل کیا جائے، پیچیدہ معاملات کے حوالے سے پی ایم اوز پر درپیش رکاوٹوں اور قابلِ عمل ٹائم لائنز کی واضح تفصیلات درج کی جائیں۔ وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ وزیراعظم آفس متعلقہ وزارتوں کے ساتھ قریبی تعاون سے عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گا اور اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر، پی ایم آفس کے حکام اور متعلقہ وفاقی سیکرٹریز پر مشتمل جائزہ اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے تاکہ واضح اور قابلِ عمل اہداف مقرر کیے جا سکیں۔وفاقی سیکرٹریز نے پی ایم آفس اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی جانب سے تیار کردہ اس جدید ڈیجیٹل گورننس پلیٹ فارم کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آفس سسٹم وفاقی حکومت میں ادارہ جاتی استعداد، شفافیت، بین الوزارتی رابطے اور کارکردگی کی مؤثر نگرانی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے آئندہ ایک سے دو ہفتوں کے دوران وزیراعظم آفس سسٹم کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے، نظام پر مکمل طور پر متحرک رہنے اور پی ایم آفس و پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے تمام آپریشنل امور کو بروقت حل کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔







