فرانس اور سپین میں جنگلات میں لگی آگ کے باعث دو لاکھ 20 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور

فرانسیسی حکام نے بورڈو کے قریب مزید تقریباً 60 ہزار افراد کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد فرانس اور سپین میں جنگل میں لگی آگ کے باعث اب تک دو لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو نقل مکانی کا مشورہ دیا جا چکا ہے۔

پیرس، بارسلونا ۔25جولائی (اے پی پی):فرانسیسی حکام نے بورڈو کے قریب مزید تقریباً 60 ہزار افراد کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد فرانس اور سپین میں جنگل میں لگی آگ کے باعث اب تک دو لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو نقل مکانی کا مشورہ دیا جا چکا ہے۔بی بی سی کے مطابق جنوب مغربی فرانس کے گیروند اور لانڈز کے علاقوں سے تقریباً دو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا کہا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے امدادی کارروائیوں میں معاونت کے لیے فوج کو متحرک کر دیا ہے۔دوسری جانب سپین کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ میڈرڈ کے قریب لگی آگ اب فائر فائٹرز کی قابو پانے کی صلاحیت سے باہر ہو چکی ہے۔دارالحکومت کے مغرب میں لگنے والی تین الگ الگ آگیں یکجا ہو کر ایک بڑی آگ کی صورت اختیار کر گئی ہیں جس کے بعد حکومت نے قومی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔حکام کے مطابق 25 ہزار افراد کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ تقریباً 40 ہزار افراد کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔میڈرڈ کے علاقائی صدر ازابیل دیاز آیوسو نے اسے ’خطے کی تاریخ کی بدترین آگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقے شدید گرمی، مسلسل تیز ہواؤں اور مختلف مقامات پر لگی آگ کے یکجا ہونے کے باعث ایک بڑی آفت کا سامنا ہے۔