خیبر پاس اکنامک کوریڈور منصوبے پر جون 2026 تک 32 کروڑ 69 لاکھ روپے خرچ

حکومت نے خیبر پاس اکنامک کوریڈور (کے پی ای سی) منصوبے پر جون 2026 تک 32 کروڑ 69 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ کیے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے اس منصوبے کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے ہیں

اسلام آباد۔25جولائی (اے پی پی):حکومت نے خیبر پاس اکنامک کوریڈور (کے پی ای سی) منصوبے پر جون 2026 تک 32 کروڑ 69 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ کیے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے اس منصوبے کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، جن میں 30 کروڑ روپے مقامی وسائل سے جبکہ 2 ارب 20 کروڑ روپے ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے فراہم کیے جائیں گے۔دستاویزات کے مطابق ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنیک) نے جولائی 2020 میں منصوبے کے نظرثانی شدہ پی سی-I کی منظوری دی تھی، جس کی مجموعی لاگت تقریباً 77 ارب 90 کروڑ روپے ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پشاور کو طورخم بارڈر کراسنگ سے ملانے والے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو جدید بنانا ہے۔دستاویزات کے مطابق یکم جولائی 2026 تک منصوبہ خریداری (پروکیورمنٹ) کے مرحلے میں تھا، جبکہ جون 2026 تک اس پر مجموعی طور پر 32 کروڑ 69 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ منصوبے پر باقی ماندہ 77 ارب 58 کروڑ روپے عمل درآمد کے مرحلے میں خرچ کیے جائیں گے۔خیبر پاس اکنامک کوریڈور کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانا اور وسطی ایشیا کے ساتھ مزید علاقائی رابطوں کی بنیاد فراہم کرنا ہے۔منصوبے کے تحت سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا، سفر کا دورانیہ کم ہوگا، مال برداری میں سہولت پیدا ہوگی، پاکستان کے مصروف ترین بین الاقوامی تجارتی راستوں میں سے ایک پر سفری تحفظ بہتر ہوگا، جبکہ لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹ نظام کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگا۔اس کے علاوہ منصوبہ علاقائی تجارت کو فروغ دینے، خیبرپختونخوا میں منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے، نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور تعمیراتی و آپریشنل مراحل میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی جدیدکاری اور علاقائی اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سرحد پار تجارت کے لیے زیادہ مؤثر ٹرانسپورٹ روٹ دستیاب ہوگا، لاجسٹکس کے اخراجات میں کمی آئے گی اور پاکستان کا کردار جنوبی ایشیا، افغانستان اور وسطی ایشیا کو ملانے والی علاقائی تجارتی اور ٹرانزٹ راہداری کے طور پر مزید مستحکم ہوگا۔