مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے مہنگائی کی مجموعی صورتحال، اہم معاشی اشاریوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس، سٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27جولائی (اے پی پی):مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے مہنگائی کی مجموعی صورتحال، اہم معاشی اشاریوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے کہ سٹیٹ بینک 27 اپریل سے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو منعقد ہوا۔جون میں عمومی اور قوزی مہنگائی ، دونوں معتدل ہوئیں تاہم یہ بدستور بلند سطح پر برقرار رہیں۔ دریں اثناء میں موصول ہونے والے بلند تعدد کے اظہاریے معاشی سرگرمیوں میں کسی حد تک تیزی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جبکہ بیرونی کھاتے پر دبائو نسبتاً معتدل رہا۔
اس پیش رفت اور ابھرتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھ کر زری پالیسی کمیٹی نے یہ نتیجہ نکالا کہ موجودہ زری پالیسی موقف وسط مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد ہدف کے اندر رکھنے کے لیے موزوں ہے۔زری پالیسی کمیٹی نے اپنے گذشتہ اجلاس کے بعد سے حالات میں آنے والی ان اہم تبدیلیوں کو نوٹ کیا۔ پہلی، سٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر آخر جون 2026ء کے ہدف 18 ارب ڈالر سے آگے نکل گئے جس کا بڑا سبب زر مبادلہ کی جاری خریداریاں اور مالی سال میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم رہنا ہے، نیز سرکاری رقوم کی منصوبہ بند آمد بھی ایک سبب بنی۔ دوسری، سٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی ریاستی درجہ بندی کو بہتر کرتے ہوئے ’’بی‘‘ کر دیا۔ تیسری، احساسات جاننے کے تازہ ترین سروے میں صارفین اور کاروباری اداروں دونوں نے مہنگائی میں کمی کی توقعات ظاہر کیں جبکہ اعتماد کے اظہاریوں میں ملی جلی تصویر دیکھی گئی۔
چوتھی، ایف بی آر نے مالی سال 26ء کا اپنے ٹیکس ریونیو کا نظرِ ثانی شدہ ہدف پورا کرلیا۔ آخری بات یہ کہ آئی ایم ایف نے اپنے تازہ ترین ’’عالمی اقتصادی منظرنامے‘‘ میں پیش گوئی کی کہ 2026ء اور 2027ء دونوں میں عالمی مہنگائی زیادہ رہے گی جبکہ اجناس کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔زری پالیسی کمیٹی نے یہ محسوس کیا کہ ایک محتاط زری پالیسی موقف اور برقرار مالیاتی یکجائی سے تقویت پا کر میکرو اکنامی کے مستعد اور فعال انتظام نے دشوار عالمی ماحول کے باوجود جاری رسدی دھچکوں کو موثر طریقے سے برداشت کرنے میں مدد دی ہے اور میکرو اکنامک استحکام کا تحفظ کیا ہے۔ کمیٹی نے قیمتوں کے استحکام کا ہدف حاصل کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور یہ کہ آنے والے ڈیٹا اور ارتقا پذیر تبدیلیوں کا بغور جائزہ لیا جاتا رہے گا۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرونی اور مالیاتی بفرز کو مزید مستحکم کرنا اور مالی ڈھانچے کی اصلاحات میں تیزی لانا اہم ہے۔ یہ چیزیں بار بار آنے والے دھچکے برداشت کرنے کے لیے، پیداواریت بڑھانے کے لیے اور بلند اور پائیدار معاشی نمو کو مدد دینے کے لیے ضروری ہیں۔مالی سال 26ء کی چوتھی سہ ماہی میں معاشی سرگرمی کی رفتار کچھ سست رہی جو مشرق وسطیٰ کے تنازعہ، توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے اور کفایت شعاری کے سرکاری اقدامات کے باعث متوقع تھا تاہم جون کے دوران سیٹلائٹ تصاویر، گاڑیوں کی فروخت، سیمنٹ کی ترسیل، کھاد کے استعمال اور کاروباری احساسات جیسے بلند تعدد کے اظہاریوں سے معاشی سرگرمی میں کسی حد تک بحالی کا پتہ چلتا ہے۔
نیز شعبہ زراعت کا منظرنامہ پچھلے جائزے کے مقابلے میں کچھ بہتر ہوا ہے۔خصوصاً ابتدائی تخمینے سے گنے کی متوقع پیداوار میں خاصے اضافے کی نشاندہی ہوتی ہے جس سے امکان ہے کہ کپاس کی پیداوار میں متوقع کمی کا اثر بخوبی زائل ہو جائے گا۔اجناس کے پیداواری شعبوں کے بہتر امکانات شعبہ خدمات پر بھی مثبت اثرات ڈالیں گے۔ مزید برآں میزانی ترغیبات ، درآمدی ٹیرف کو حقیقت پسندانہ بنانے کا تسلسل اور نجی شعبے کے قرضوں میں اضافے سے امکان ہے کہ معاشی سرگرمی کو مزید تقویت ملے گی، لہٰذا زری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 27ء میں حقیقی جی ڈی پی کی نمو 3.5 تا 4.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے اور موسمی حالات کی بے یقینی بشمول ابھرتے ہوئے ایل نینو اثرات کے باعث اجناس کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھائو سے پید اہونے والے خطرات نمو کو متاثر کر سکتے ہیں۔
مالی سال 26ء کے دوران کرنٹ اکائونٹ میں 139ملین ڈالر خسارہ ہوا جو سال کی تخمین شدہ سطح کی نچلی حد کے قریب ہے۔ مشرق وسطیٰ تنازعہ کے حالات میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے اثرات کارکنوں کی ترسیلات زر کی ریکارڈ آمد نے جزوی زائل کر دیئے۔نیز مالی کھاتے میں سرپلس درج کیا گیا۔ اس پیش رفت سے سٹیٹ بینک کو اپنے زرمبادلہ ذخائر مزید مضبوط بنانے اور پیشگی واجبات کو خاصا کم کرنے میں مدد ملی تاہم حالیہ ہفتوں کے دوران قرضوں کی خاصی واپسی کے باعث 17 جولائی 2026ء تک زرمبادلہ ذخائر تقریباً 17.3 ارب ڈالر تک ہیں۔ آگے چل کر کرنٹ اکائونٹ خسارے میں اضافہ متوقع ہے جو معاشی سرگرمی بڑھنے سے ہم آہنگ ہے، البتہ مالی سال 27ء میں یہ خسارہ جی ڈی پی کے صفر تا ایک فیصد کی حد میں رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
امکان ہے کہ کارکنوں کی ترسیلات زر گذشتہ برس کے مقابلے میں بڑھیں گی اور تخمین شدہ بلند تجارتی خسارے کا بڑا حصہ بدستور ان ترسیلات سے پورا ہوگا ۔ منصوبہ بند سرکاری رقوم کی آمد سے اور نجی رقوم کی آمد میں کچھ ممکنہ بہتری سے توقع ہے کہ سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر آخر دسمبر 2026ء تک بڑھ کر 20.20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایف بی آر نے مالی سال 26ء کے اختتام تک 13.0 ٹریلین روپے کے ٹیکس وصولی کا نظرِثانی شدہ ہدف حاصل کر لیا۔ اندازہ ہے کہ پرائمری بیلنس مسلسل تیسرے سال بھی سرپلس رہے گا۔ دریں اثناء مجموعی مالیاتی خسارہ گذشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ مالی سال 27ء میں بھی مالیاتی یکجائی جاری رہنے کی توقع ہے جس کے تحت پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا 2.0 فیصد جبکہ مجموعی مالیاتی خسارے کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ ملکی اور عالمی غیر یقینی صورت حال کے سبب ان اہداف کے حصول کی غرض سے محاصل بڑھانے اور اخراجات کو منظم کرنے کے لیے مسلسل پیش رفت ناگزیر ہوگی۔
اس ضمن میں، زری پالیسی کمیٹی نے ایک بار پھر مالیاتی اصلاحات بالخصوص ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے اور سرکاری شعبے کے کاروباری اداروں کے خساروں میں کمی لانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بلند اور پائیدار اقتصادی نمو کو سہارا دیا جا سکے۔10 جولائی تک زر وسیع (ایم ٹو) کی نمو زری پالیسی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے موقع پر 15.2 فیصد سال بہ سال سے کم ہوکر 13.2 فیصد رہ گئی جس سے بینکاری نظام کی طرف سے خالص ملکی اثاثوں اور خالص بیرونی اثاثوں دونوں کے پست حصے کی عکاسی ہوتی ہے۔ عمومی مہنگائی جون 2026ء میں کم ہوکر 11.1 فیصد سال بہ سال رہ گئی جو گذشتہ ماہ 11.7 فیصد تھی۔ اس کی بنیادی وجہ توانائی کی عالمی قیمتوں میں کمی کے اثرات کی مقامی صارفین کو منتقلی اور بجلی کے نرخوں میں موافق رد وبدل تھی۔قوزی مہنگائی بھی معتدل ہوکر 8.4 فیصد پر آگئی تاہم یہ بدستور بلند سطح پر برقرار ہے۔
دوسری جانب جون میں گندم اور اس کی مصنوعات نیز اہم تلف پذیر اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث غذائی مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اجناس کی عالمی قیمتوں میں حالیہ اضافے، پیداواری لاگت بڑھنے اور ملک میں غذائی اشیاء کی قیمتوں پر موجود دبائو کے باعث آئندہ چند ماہ کے دوران مہنگائی ہدف کی حد سے بلند رہنے کا امکان ہے۔ بعد ازاں توقع ہے کہ مہنگائی میں بتدریج کمی آئے گی اور جون 2027ء تک یہ 5 تا 7 فیصد ہدف کی بالائی سطح کے قریب مستحکم ہو جائے گی۔البتہ یہ منظرنامہ متعدد خطرات سے مشروط ہے جن میں توانائی کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھائو، توانائی کے سرکاری نرخوں میں غیر متوقع ردوبدل ، ناسازگار موسمی حالات اور مالیاتی خسارے میں ممکنہ اضافے جیسے عوامل شامل ہیں۔








