تحریک شباب المسلمین جموں و کشمیر کی بھارتی ریاستی جبر، اجتماعی سزاؤں، ہزاروں بے گناہ شہریوں کی گرفتاری، رہائشی گھروں کی مسماری، مذہبی آزادیوں پر پابندیوں کی مذمت

تحریک شباب المسلمین جموں و کشمیر نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری ریاستی جبر، اجتماعی سزاؤں، ہزاروں بے گناہ شہریوں کی گرفتاری، رہائشی گھروں کی مسماری، مذہبی آزادیوں پر پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں کی مذمت کی ہے۔

اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):تحریک شباب المسلمین جموں و کشمیر نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری ریاستی جبر، اجتماعی سزاؤں، ہزاروں بے گناہ شہریوں کی گرفتاری، رہائشی گھروں کی مسماری، مذہبی آزادیوں پر پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں کی مذمت کی ہے۔

تحریک کے ترجمان محمد آصف نے اپنےبیان میں کہا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران تقریباً 3,500 بے گناہ کشمیری نوجوانوں اور شہریوں کو مختلف کالے اور سخت گیر قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ وادی بھر میں گھروں پر چھاپوں، تلاشی کی کارروائیوں، خوف و ہراس، دھمکیوں اور اجتماعی سزا کے اقدامات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ سالوں کے دوران سینکڑوں رہائشی مکانات کو مسمار کیا جا چکا ہے۔ ان گھروں کی اینٹیں اور دیواریں ہی نہیں گرائی گئیں بلکہ ان کے ساتھ وابستہ خاندانوں کے خواب، امیدیں اور زندگی بھر کی جمع پونجی بھی ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی۔ ان مکانات کے مکین آج شدید کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے خاندان کھلے آسمان تلے زندگی بسر کر رہے ہیں، جبکہ متعدد افراد اپنے عزیز و اقارب کے گھروں، عارضی پناہ گاہوں یا نامعلوم مقامات پر دربدر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خواتین، بچے، بزرگ اور بیمار افراد اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جنہیں شدید ذہنی دباؤ، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اگر کوئی رشتہ دار، پڑوسی یا مخیر شخص ان متاثرہ خاندانوں کی مالی، قانونی یا انسانی بنیادوں پر مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بھی مختلف نوعیت کی کارروائیوں، پوچھ گچھ، دھمکیوں، گرفتاریوں یا دیگر سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرزِ عمل نے معاشرے میں خوف کی ایسی فضا قائم کر دی ہے کہ لوگ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی متاثرین کی مدد کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی اقدار بلکہ انصاف اور قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔محمد آصف نے کہا کہ عوام کو مساجد میں عبادت کے لیے جانے سے روکنا، مذہبی اجتماعات پر پابندیاں عائد کرنا، نوجوانوں کو بلاجواز حراست میں لینا، گھروں کو مسمار کرنا اور پوری آبادی کو اجتماعی سزا دینا ایسے اقدامات ہیں جن سے بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لیتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں امن، انصاف اور استحکام طاقت، خوف اور جبر سے قائم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے انسانی وقار، قانون کی حکمرانی اور بنیادی آزادیوں کا احترام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں جاری یہ صورتحال صرف ایک انسانی بحران نہیں بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک سنجیدہ امتحان ہے۔ اگر ایک پوری آبادی کو مسلسل خوف، بے یقینی اور بنیادی حقوق سے محرومی کی حالت میں رکھا جائے تو اس کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔ترجمان نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، بین الاقوامی ریڈ کراس، یورپی یونین، عالمی ذرائع ابلاغ اور انصاف و انسانی وقار کے علمبردار تمام عالمی اداروں سےاپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی صورتحال کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لیں، آزاد اور غیرجانبدارانہ حقائق معلوم کرنے کے لیے موثر اقدامات کریں، متاثرہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کریں جو شہری آبادی کو مزید مشکلات سے دوچار کرتے ہیں۔

محمد آصف نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی اور عدم استحکام کا بنیادی سبب ہے۔ اس تنازع کا پائیدار، منصفانہ اور دیرپا حل صرف طاقت یا یکطرفہ اقدامات میں نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی عمل میں مضمر ہے جو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے اس صورتحال پر خاموشی برقرار رکھی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا موثر نوٹس نہ لیا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تحریک شباب المسلمین جموں و کشمیر نے مطالبہ کیا کہ بے گناہ گرفتار افراد کو فوری طور پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، شہری آبادی کے بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کا مکمل احترام کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور امداد کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں، گھروں کی مسماری اور اجتماعی سزا کی پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے، اور مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے لیے سنجیدہ بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا آغاز کیا جائے۔

مزید خبریں