آسٹریلیا نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی میں ممکنہ اضافہ عالمی مہنگائی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ عالمی مہنگائی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے ، آسٹریلیا

مزید خبریں
کینبرا۔28جولائی (اے پی پی):آسٹریلیا نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی میں ممکنہ اضافہ عالمی مہنگائی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
شنہوا کے مطابق یہ بات آسٹریلوی وزیرِ خزانہ جم چالمرز نے منگل کو وزارتِ خزانہ کی ایک بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کے پاس اب پہلے کے مقابلے میں کم حفاظتی ذخائر (weaker buffers) موجود ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فروری میں امریکا ایران جنگ کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں آنے والا ابتدائی جھٹکا برآمدات کے متبادل راستوں اور تیل کے ذخائر کے استعمال کے باعث کسی حد تک قابو میں رہا، تاہم اب دنیا بھر میں یہ ذخائر نمایاں طور پر کم ہو چکے ہیں۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےوزیرِ خزانہ جم چالمرز نے کہا کہ آسٹریلوی عوام دنیا کے دوسرے حصے میں جاری اس تنازع کی قیمت پہلے ہی بھاری معاشی بوجھ کی صورت میں ادا کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی میں اضافہ عالمی مہنگائی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس جنگ، اس کے اخراجات اور نتائج کے بارے میں اب بھی بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ معاشی نقطۂ نظر سے اس جنگ کا مستقل اور پائیدار خاتمہ جتنی جلد ممکن ہو، اتنا بہتر ہے۔ مئی میں جاری کیے گئے27۔2026 کے وفاقی بجٹ میں شامل ایک ممکنہ منفی منظرنامے کے مطابق، اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو ستمبر کی سہ ماہی کے دوران خام تیل کی قیمت 200 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا کی سالانہ مہنگائی کی شرح 7.25 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب آسٹریلوی ادارہ برائے شماریات بدھ کو جون کے مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کرے گا۔








