وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لئے فائیو جی انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہے ہیں ،آئی ٹی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو جی ایس ایم اے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنے کیلئے فائیو جی انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہے ہیں ،آئی ٹی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، شزہ فاطمہ خواجہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لئے فائیو جی انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہے ہیں ،آئی ٹی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو جی ایس ایم اے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، آئی ٹی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تیز ترین انٹرنیٹ فراہم کرنے کے لئے فائیو جی انٹرنیٹ سروس فراہم کر رہے ہیں ،ملک میں کنکٹیویٹی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے،گزشتہ پانچ سالوں میں ملکی انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے ، 2024 میں 20 لاکھ صارفین صرف انٹرنیٹ فائبریزیشن استعمال کر رہے تھے ، اب اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا عزم ملک میں بہترین انٹرنیٹ کی فراہمی اور ڈیجیٹل پاکستان ہے، صوبے اس حوالے سےمل کر بہترین کام کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر ٹیلی کام نیٹ ورک کی سب سے بڑی بین الاقومی تنظیم جی ایس ایم نے اپنی رپورٹ جاری کر دی۔ ڈیجیٹل پاکستان 2030،جی ایس ایم اے کی رپورٹ جولیئن گورمن، ہیڈ آف ایشیا پیسفک، جی ایس ایم اے نے پیش کی۔ جولئین گورمن نے کہا کہ پائیدار سرمایہ کاری، اعتماد اور جامع ترقی کے لئے پیشرفت کو مزید تیز کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے لئے ڈیجیٹل خدمات تک رسائی میں معاشرتی عوامل اور اخراجات اہم رکاوٹ ہیں، 28 فیصد خواتین اپنا انٹرنیٹ فون نہ ہونے کے باعث دوسروں کے موبائل پر انحصار کرتی ہیں، خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت اور موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ڈیجیٹل ترقی کے لئے پانچ اہم ترجیحات کا تعین بھی کیا گیا ہے، سپیکٹرم پالیسی اصلاحات سے سرمایہ کاری کا ماحول مزید بہتر ہوا۔رپورٹ کے مطابق ڈیجیٹل پاکستان وژن 2030 کے تحت پائیدار سرمایہ کاری اور جامع معاشی ترقی کی ضرورت ہے،پاکستان نے ڈیجیٹل تبدیلی کی مضبوط بنیادیں قائم کر لی ہیں ، ڈیجیٹل گورننس میں بہتری، قومی مسابقت میں ٹیکنالوجی کا کردار مضبوط ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2030 تک قابلِ اعتماد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے فروغ کا ہدف ہونا چاہئے،حکومت، صنعت اور ترقیاتی شراکت داروں کے باہمی تعاون بڑھائے،2024 سے 2025 کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ کا استعمال 45 سے بڑھ کر 53 فیصد ہوئی،موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق 25 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا،ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو قومی پیداوار اور معاشی ترقی کا اہم محرک قرار دیا گیا ، پاکستان ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان 2030 کے لئے پانچ سٹریٹجک ترجیحات متعارف کرانا ناگزیر ہے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے ٹیکس اور ریگولیٹری اصلاحات ضروری ہے، موبائل شعبے نے 2025 میں 278 ارب روپے ٹیکس اور فیسوں کی مد میں ادا کئے ، موبائل سیکٹر کی ٹیکس ادائیگیاں شعبے کی مجموعی آمدن کا تقریباً 40 فیصد رہیں، فائیو جی نیٹ ورک توسیع کے لئے سرمایہ کاری کی گنجائش برقرار رکھنا ناگزیرہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت میں پیشرفت کے باوجود استعمال کا فرق برقرارہے،ڈیجیٹل ترقی کی بڑی رکاوٹ نیٹ ورک نہیں بلکہ استطاعت، ڈیجیٹل مہارت اور آلات تک رسائی ہے، ڈیجیٹل پالیسی کا محور صرف کنکشن نہیں بلکہ عوام کی مؤثر، محفوظ اور سستی رسائی ہونی چاہئے، حکومت اور صنعت کو ڈیجیٹل شمولیت بڑھانے کے لئے مشترکہ اقدامات تیز کرنا ہوں گے،پائیدار سرمایہ کاری، ڈیجیٹل اعتماد اور جامع ترقی ہی ڈیجیٹل پاکستان 2030 کی بنیاد ہیں ۔








