چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے جمہوریہ جنوبی کوریا کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

"چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے جمہوریہ جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان بائیو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صحت، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔”

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے جمہوریہ جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان بائیو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صحت، فارماسیوٹیکل اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔

وفد کی قیادت کے او اے بایو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر چو نے کی جبکہ وفد میں کے او اے کارپوریشن ، سکیل سنائپر اور بائیوٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صحت کے شعبے میں جدت اور جدید طبی ٹیکنالوجیز سے وابستہ جنوبی کوریا کی ممتاز کمپنیوں کے اعلیٰ نمائندگان بھی شامل تھے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے معزز وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جمہوریہ کوریا کے ساتھ اپنی دیرینہ اور دوستانہ شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے جو باہمی احترام، اعتماد اور مسلسل فروغ پاتے ہوئے اقتصادی و تکنیکی تعاون پر استوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اگرچہ دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے تاہم بائیوٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، صحت، مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی تحقیق، جدید مینوفیکچرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے اعلیٰ قدر کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان-جنوبی کوریا پارلیمانی دوستی گروپ دونوں ممالک کے درمیان مکالمے، قانون سازی کے شعبے میں تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کے لئے ایک مؤثر ادارہ جاتی پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ارکانِ پارلیمان، پالیسی سازوں، محققین، جامعات اور نجی شعبے کے درمیان روابط میں مزید اضافہ دونوں ممالک کے سائنسی، تکنیکی اور اقتصادی تعاون کو نئی جہت فراہم کرے گا۔سید یوسف رضا گیلانی نے تحقیق اور جدت کے فروغ کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جامعات، طبی اداروں، تحقیقی مراکز اور باصلاحیت نوجوان سائنسدانوں اور طبی ماہرین کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے جو بین الاقوامی تعاون کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بائیوٹیکنالوجی، بائیولوجکس، پریسیژن میڈیسن، ادویہ سازی میں جدت، طبی آلات کی تیاری، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، محققین کے تبادلوں، کلینیکل اسٹڈیز اور ٹیکنالوجی شراکت داری کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا اور ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں کے مؤثر علاج کی جدید راہیں ہموار کی جا سکیں۔ چیئرمین سینیٹ نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے انقلابی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، جنوبی کوریا کے اداروں کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ادویات کی دریافت، پریسیژن میڈیسن، بایو انفارمیٹکس، جینومک تجزیات، بیماریوں کی پیشگی نگرانی اور ڈیجیٹل تشخیص جیسے شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔انہوں نے جنوبی کوریا کی کمپنیوں کو پاکستان میں طبی آلات کی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سطح پر اسمبلنگ، بائیومیڈیکل انجینئرنگ، لیبارٹریوں کی جدید کاری اور ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تعاون کے مواقع سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا صحت کا شعبہ اور جدید طبی ٹیکنالوجیز کی بڑھتی ہوئی ضرورت دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے وسیع امکانات فراہم کرتی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہتر ہوتے ماحول کا ذکر کرتے ہوئے وفد کو آگاہ کیا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی ) نے بائیوٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل، صحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے سنگل ونڈو سہولت متعارف کرائی ہے۔انہوں نے جنوبی کوریا کی کمپنیوں اور پاکستان کی وزارتوں، جامعات، تحقیقی اداروں اور صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیموں کے درمیان کاروباری شراکت داری، مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس جدت، بائیوٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کے مؤثر نظم و نسق اور عالمی صحت کے تحفظ سے متعلق پالیسی سازی کو فروغ دینے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔جنوبی کوریا کے وفد نے پرتپاک استقبال پر چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بائیوٹیکنالوجی، صحت کے شعبے میں جدت، مصنوعی ذہانت، طبی ٹیکنالوجیز، تحقیق اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفد نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی سائنسی استعداد، سرمایہ کار دوست ماحول اور تحقیق و ترقی کے فروغ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے پاکستانی اداروں کے ساتھ طویل المدتی شراکت داری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مزید خبریں