امریکہ-ایران مذاکرات جاری ہیں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور پاکستان-قطر مشترکہ اعلامیہ پائیدار امن کے عمل کیلئے بدستور بنیادی فریم ورک کی حیثیت رکھتے ہیں، ترجمان دفترخارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

"پاکستان نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جبکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور پاکستان-قطر مشترکہ اعلامیہ پائیدار امن کے عمل کے لیے بدستور بنیادی فریم ورک کی حیثیت رکھتے ہیں۔”

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور پاکستان-قطر مشترکہ اعلامیہ پائیدار امن کے عمل کے لیے بدستور بنیادی فریم ورک کی حیثیت رکھتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو یہاں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ موجودہ کشیدگی اور مخاصمت کے ماحول میں پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی بھرپور کوششیں کررہے ہیں کہ فریقین کو دوبارہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف لایا جائے۔ ترجمان نے فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے اپنے عزم پر مکمل طور پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ چند دنوں کے دوران صورتحال نسبتاً پرسکون رہی ہے تاہم خلیج اور آبنائے ہرمز میں مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی نازک ہے خاص طور پر غیر ریاستی عناصر کی جانب سے سعودی عرب پر حملے انتہائی قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشیدگی میں کمی اور مسائل کے پرامن حل کے لیے پرامید ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ فریقین دوبارہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کی طرف لوٹیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی قیادت میں وزارت خارجہ اور تمام متعلقہ ادارے صورتحال کے تمام پہلوئوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں اور پاکستان اپنے تمام سفارتی اور تزویراتی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے موثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے اسلام آباد کے سرکاری دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے پاکستان۔کویت دفاعی تعاون کے معاہدے کی کویت کی جانب سے توثیق کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’ادارہ جاتی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت‘‘ قرار دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ثالثی اور دفاعی تعاون ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں کیونکہ دونوں کی نوعیت الگ الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثالث کے طور پر ہمارا کردار اس حقیقت سے متاثر نہیں ہوتا کہ ہمارے دفاعی معاہدے موجود ہیں اور نہ ہی دفاعی معاہدے ہمارے ثالثی کے کردار کو محدود کرتے ہیں، دونوں اپنی اپنی الگ جہت میں کام کرتے ہیں۔ ترجمان نے ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر نشر کی گئی حالیہ دستاویزی فلم کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’فرسودہ، قیاس آرائیوں پر مبنی تبصروں اور جانبدار ذرائع کا اعادہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دستاویزی فلم یا تو پاکستان کے جوہری پروگرام کی تاریخ، ارتقاء اور اس کے پس منظر سے گہری ناواقفیت کی عکاس ہے یا پھر دانستہ طور پر ان حقائق کو نظرانداز کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو اپنے مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام پر مکمل اعتماد ہے جو اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان ٹی وی اور دیگر اداروں کے سوشل میڈیا اکائونٹس تک رسائی روکنے کے فیصلے پر ترجمان نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے آزادی اظہار اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو دبانے کی ایک منظم پالیسی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے موجودہ ماحول میں حقائق پر مبنی صحافت کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت میں میڈیا کی آزادی کے سکڑتے ہوئے دائرے کا نوٹس لے۔ ترجمان نے آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ جمہوری انتخابات پر بھارتی تبصروں اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو معمول کا حصہ ظاہر کرنے کی کوششوں کو بھی سختی سے مسترد کیا۔ انہوں نے کہا جموں و کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مقامی اسمبلی یا حکومت کا کوئی بھی فیصلہ اقوام متحدہ کے زیر انتظام استصواب رائے کی ضرورت کو ختم نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کشمیری شہریوں کے خلاف پیلٹ گنز کے ماضی اور حال میں استعمال کی بھی شدید مذمت کی۔ ترجمان نے سرحدی سلامتی اور افغانستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کارروائیوں میں صرف دہشت گردوں اور افغانستان میں موجود ان کے سرغنوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو اس حقیقت کو سنجیدگی سے سمجھنے اور ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد عناصر جن میں بعض اوقات افغان شہری بھی شامل ہوتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں، لہٰذا ہمیں اپنے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سلامتی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور ہم آئندہ بھی یہ اقدامات جاری رکھیں گے۔ فلسطین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سات دیگر عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی پابندیوں کی مذمت کی گئی۔ پاکستان کی فعال سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی جس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سعودی عرب، اردن اور مصر کے اپنے ہم منصبوں سے بھی ٹیلیفونک رابطے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے تصدیق کی کہ پاکستان 2026ء سے 2027ء تک ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھالے گا۔ اس سلسلے میں آئندہ سال کے وسط میں ایس سی او وزرائے خارجہ کانفرنس جبکہ 2027ء کے دوسرے نصف میں ایس سی او سربراہان مملکت کا سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد ہوگا۔

مزید خبریں