سعودی عرب کی فالکن وژن گروپ کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں دلچسپی، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی مکمل سہولت کاری کی یقین دہانی

"وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ہر مرحلے پر سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی ترقی کے لیے فعال اور سرمایہ کار دوست پالیسی پر عمل پیرا ہے۔”

اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ہر مرحلے پر سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی ترقی کے لیے ایک فعال اور سرمایہ کار دوست پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

یہ بات وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کاروباری شخصیات، اوورسیز پاکستانیوں اور میڈیا نمائندگان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کہی ۔ ملاقات کے دوران پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد میں سابق ڈائریکٹر کرنٹ افیئرز پی ٹی وی اسلام آباد رشید خان نیازی، نائب چیئرمین/صدر فالکن وژن کمپنی (جدہ، مملکت سعودی عرب) محمد طارق غوث، بزنس ہیڈ فالکن وژن پاکستان ذوالفقار، کنٹری ہیڈ فالکن وژن پی ایچ ڈی ماس کمیونیکیشن ڈاکٹر عصمت اللہ خان، جو جے سیون ایمپوریئم سمیت رئیل اسٹیٹ منصوبوں سے وابستہ نمائندوں ، کوریا میں مقیم پاکستانی کرنل جمشید اور عتیق اور لگژری گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک کاروباری شخصیات شامل تھیں۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔وفاقی وزیر نے وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ہر مرحلے پر سرمایہ کاروں کو مکمل سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی ترقی کے لیے ایک فعال اور سرمایہ کار دوست پالیسی پر عمل پیرا ہے۔محمد طارق غوث نے وفاقی وزیر کو فالکن وژن کمپنی کے امور سے آگاہ کیا جو جدہ میں قائم ایک متنوع کاروباری گروپ ہے اور انفراسٹرکچر، تعمیرات، ٹیکنالوجی اور دیگر صنعتی شعبوں میں سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں ممکنہ سرمایہ کاری کے لیے 10 ارب امریکی ڈالر تک مختص کئے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک وسیع اور متحرک منڈی ہے جہاں نوجوان آبادی اور جغرافیائی اہمیت کے باعث مختلف شعبوں میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دی جا رہی ہیں جن میں 2035ء تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ اور مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی میں چھوٹ شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بزنس سہولت مراکز ون ونڈو پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہے ہیں جہاں رجسٹریشن، لائسنسنگ اور دیگر تمام مراحل ایک ہی جگہ پر مکمل کیے جا سکتے ہیں۔سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مستحکم کرتے ہوئے قیصر احمد شیخ نے کہا کہ پاکستان میں منافع کی سو فیصد ترسیل کی اجازت ہے اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ بلاامتیاز سلوک کیا جاتا ہے جبکہ بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاری پالیسی کا نگران ادارہ ہے۔ انہوں نے توانائی کی لاگت اور بعض انتظامی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان مسائل کے حل کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے ریگولیٹری اصلاحات میں بورڈ آف انویسٹمنٹ کے کلیدی کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات جس کی وہ سربراہی کر رہے ہیں، کاروباری عمل کو مزید آسان بنانے اور سہولت کاری کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔مقبول نے وفاقی وزیر کو اپنے رئیل اسٹیٹ منصوبوں بشمول جے سیون ایمپوریئم سے آگاہ کیا اور سپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام کے منصوبے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے صنعتی ترقی کے لیے سپیشل ٹیکنالوجی زون اور خصوصی اقتصادی زونز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے قواعد میں ترمیم کی جا چکی ہے جس کے تحت نجی شعبہ بھی زونز کے قیام اور انتظام میں کردار ادا کر سکتا ہے، بشرطیکہ مقررہ تقاضے پورے کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے زونز کے قیام پر فی الوقت پابندی ہے تاہم سرمایہ کار پہلے سے منظور شدہ علاقوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں بورڈ آف انویسٹمنٹ ہر ممکن معاونت فراہم کرے گا۔وفاقی وزیر نے جے سیون ایمپوریئم کے دورے کی دعوت کو سراہا اور رئیل اسٹیٹ و کمرشل شعبے میں مزید تعاون کی حوصلہ افزائی کی۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے حکام نے وفد کو بزنس سہولت مرکز کے دورے کی دعوت دی تاکہ وہ ون ونڈو نظام کی کارکردگی کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔کرنل جمشید نے وفاقی وزیر کو مشترکہ منصوبے کے تحت چکوال میں ایک جدید شاپنگ مال کے قیام کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع چکوال کی شرح خواندگی 97 فیصد سے زائد ہے اور یونیورسٹی آف چکوال میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد ہنرمند افرادی قوت کی عکاسی کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس منصوبے کو سراہا اور کامیابی کے لیے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔مقبول نے ٹیکسلا کے قریب گندھارا کلب کے قیام کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا جس کا مقصد مذہبی و ثقافتی سیاحت خصوصاً بدھ مت سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کے لئے اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی بدھ برادری گندھارا ورثے سے متعلق منصوبوں بشمول تعلیمی اداروں اور ریزورٹس میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا اور سیاحت کے شعبے میں پاکستان کی وسیع صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔اجلاس کے اختتام پر قیصر احمد شیخ نے وفد کو اپنی مکمل دستیابی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر سرمایہ کاروں کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں ۔بورڈ آف انویسٹمنٹ سرمایہ کاروں کی سہولت اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایک پرکشش سرمایہ کاری منزل کے طور پر اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

مزید خبریں